مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 27°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,275 PKR Bitcoin $81,426 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,275 PKR Bitcoin $81,426
قومی

پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر رعایتی آئل فنانسنگ کی درخواست

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 4 منٹ
پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر رعایتی آئل فنانسنگ کی درخواست
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان نے سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کی رعایتی آئل فنانسنگ سہولت حاصل کرنے کے لیے باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت پاکستان نے 15 سالہ مدت، صرف ایک فیصد سالانہ شرح سود اور پانچ سالہ گریس پیریڈ پر آئل فنانسنگ فراہم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے تاکہ تیل کی درآمدات کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ وزارتِ اقتصادی امور نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس حوالے سے سعودی حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی گئی یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی معیشت کو توازن برقرار رکھنے کے لیے بیرونی تعاون کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں جیسا کہ پی آئی اے کی 14.2 ارب روپے مالیت کی جائیدادیں منتقل کرنے کا عمل بھی معاشی استحکام کا حصہ ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات

اس معاملے پر وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے سعودی وزیرِ خزانہ سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی، سرمایہ کاری، مالیاتی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور طویل المدتی تعاون کے مختلف امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جس طرح وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا موٹروے ایم 5 کا خصوصی دورہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اہم ہے، اسی طرح یہ توانائی کا منصوبہ بھی ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

درآمدی بل اور زرمبادلہ پر اثرات

وزارتِ خزانہ کے مطابق اگر سعودی عرب یہ سہولت فراہم کرتا ہے تو پاکستان کو درآمدی تیل کی ادائیگیوں کے لیے فوری طور پر قیمتی زرمبادلہ خرچ نہیں کرنا پڑے گا، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا، ادائیگیوں کے توازن میں بہتری آئے گی اور مہنگے بیرونی قرضوں پر انحصار میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق پاکستان ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے، جس کے باعث درآمدی بل کا بڑا حصہ توانائی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر سعودی عرب رعایتی شرائط پر آئل فنانسنگ فراہم کرتا ہے تو حکومت کو زرمبادلہ کے بہتر انتظام، مالیاتی استحکام اور درآمدی اخراجات کے دباؤ میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی معاشی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے دیگر ادارے بھی متحرک ہیں اور حال ہی میں پی ٹی اے نے موبائل آپریٹرز پر 74 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے تاکہ ریگولیٹری نظام کو مضبوط کیا جا سکے۔

تعاون کا تسلسل اور آئندہ کا لائحہ عمل

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ چند برسوں کے دوران اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ سعودی عرب پہلے بھی پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی اور مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک توانائی، کان کنی، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ 6.7 ارب ڈالر کی رعایتی آئل فنانسنگ کا معاہدہ ابھی حتمی نہیں ہوا بلکہ پاکستان نے اپنی تجویز سعودی حکومت کے سامنے پیش کی ہے اور اس پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں