اقوام متحدہ میں پاکستان کا نوجوانوں پر مبنی جامع مصنوعی ذہانت ویژن
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان نے مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے ایک جامع، انسان دوست اور منصفانہ عالمی طرزِ حکمرانی کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی کا ثمر دنیا کے تمام ممالک اور معاشروں تک یکساں طور پر پہنچنا چاہیے۔ یہ اہم اجلاس اقوام متحدہ میں پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں سفارت کاروں، اقوام متحدہ کے سینئر حکام، ٹیکنالوجی کے ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نوجوان مندوبین نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت جدت، شمولیت اور پائیداری کے ذریعے عالمی ترقیاتی اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت تک غیر مساوی رسائی ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی عدم مساوات میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو مشترکہ ترقی کا ذریعہ بنانے کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی کو وسیع کرنے، صلاحیت سازی میں سرمایہ کاری اور نوجوانوں کو ترقی کے مرکز میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ٹائر کی مقامی صنعت کو فروغ دینے کیلئے جامع پالیسیاں ناگزیر ہیں اور اسی طرح ڈیجیٹل شعبے میں بھی ہمیں مقامی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہوگا۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اقدامات
وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹھوس اور بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے لیے 40 ارب 58 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ رانا مشہود نے مزید کہا کہ اب تک 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 73 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیٹا سائنس کی جدید تربیت فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 8 ہزار کورسز کے تحت 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد تکنیکی مہارتوں کی اسکالرشپس بھی دی جا چکی ہیں۔ رانا مشہود نے بتایا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب پر 8 لاکھ 4 ہزار سے زائد صارفین رجسٹر ہو چکے ہیں، جہاں ایک لاکھ 14 ہزار روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں اور 3 ہزار 180 سے زائد اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت 2030 تک 10 لاکھ AI پروفیشنلز اور 10 ہزار AI ٹرینرز تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ AI تعلیم، تحقیق اور جدت کو بھی ہر سطح پر فروغ دیا جائے گا۔ حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ اور شفاف ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کیلئے پرعزم ہے، وفاقی وزیر اطلاعات، اسی طرح ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی شفافیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
علاقائی تعاون اور مستقبل کی حکمت عملی
تاجکستان کے وزیر اقتصادی ترقی و تجارت عبدالرحمان عبدالرحمان زادہ نے کہا کہ ان کا ملک وسطی ایشیا کی پہلی قومی مصنوعی ذہانت حکمت عملی 2040 نافذ کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 سے 2030 کے دوران ڈیجیٹل معیشت اور اختراع کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ علاقائی تعاون اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے لیے ایک علاقائی مصنوعی ذہانت مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی جینیفر لوئی، گوگل کے AI ماہر ہاشم سید، یوتھ مندوب بسمہ قمر سمیت چین، آذربائیجان اور قازقستان کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ سائبر سکیورٹی سمیت ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے AI گورننس کے فریم ورک کو مسلسل جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان صرف ٹیکنالوجی کے صارف نہیں بلکہ اختراع کار، شراکت دار اور فیصلہ ساز بھی ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل یوتھ ہب، نیشنل یوتھ کونسل اور دیگر اختراعی پروگراموں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد کا اختتامی خطاب
اختتامی خطاب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ انسانیت کو مصنوعی ذہانت کا مستقبل خود تشکیل دینا چاہیے، نہ کہ مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے مستقبل کا تعین کرنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر AI تک مساوی رسائی یقینی نہ بنائی گئی تو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان ڈیجیٹل خلیج مزید وسیع ہو سکتی ہے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت پاکستان سول ایوارڈز کمیٹی کا اجلاس بھی ایسے ہی قومی اہداف کے حصول کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر AI گورننس میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے چار اہم ترجیحات پیش کیں، جن میں AI خلیج کا خاتمہ، مساوی ترقیاتی نتائج، نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی قیادت میں بااختیار بنانا، اور شفاف، محفوظ، اخلاقی اور جوابدہ مصنوعی ذہانت کے نظام کا فروغ شامل ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ عالمی برادری کو مضبوط شراکت داری کے ذریعے اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد دنیا بھر میں شمولیت، پائیدار ترقی اور معاشرتی استحکام کے فروغ کا ذریعہ بنیں۔
