سابق ایرانی سپریم لیڈر کے بعد 15 عالمی رہنما ہٹ لسٹ پر
تہران (نمائندہ خصوصی)۔ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد خطے میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ 11 جولائی 2026 ہفتہ کی رات، تہران کے معروف بلدیاتی اور قدامت پسند اخبار "ہمشہری” (Hamshahri) نے اپنے آن لائن ایڈیشن میں ایک سنسنی خیز انفوگرافک جاری کیا ہے، جسے خامنہ ای کی موت کا بدلہ لینے کے لیے نشانہ بنائے جانے والے عالمی رہنماؤں کی ایک "ہٹ لسٹ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فہرست ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب علی خامنہ ای کے بیٹے اور نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے باضابطہ بیان میں والد کی موت کا سخت ترین بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس نازک موڑ پر جہاں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ٹانک میں دہشت گردی کی مذمت کے بعد خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے، وہیں اس نئی پیشرفت نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔
ہٹ لسٹ میں شامل 15 اہم شخصیات
ایرانی اخبار کی جانب سے جاری کردہ اس انفوگرافک میں دنیا کے جن 15 اہم ترین سیاسی، عسکری اور انٹیلیجنس حکام کی تصاویر اور نام شامل کیے گئے ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
امریکہ (6 حکام):
- ڈونلڈ ٹرمپ (امریکی صدر)
- مارکو روبیو (امریکی وزیر خارجہ)
- پیٹ ہیگستھ (امریکی وزیر دفاع)
- مائیک والٹز (قومی سلامتی کے مشیر)
- جان رٹکلف (سی آئی اے کے سربراہ)
- جنرل چارلس کیو براؤن جونیئر (امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف) اسرائیل (5 حکام):
- بنجمن نیتن یاہو (اسرائیلی وزیراعظم)
- اسرائیل کاٹز (اسرائیلی وزیر دفاع)
- لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہالیوی (اسرائیلی فوج کے سربراہ)
- ڈیوڈ بارنیا (موساد کے سربراہ)
- رونین بار (شن بیٹ کے سربراہ) یورپی ممالک (4 رہنما):
- کیئر اسٹارمر (برطانوی وزیراعظم)
- ایمانوئل میکرون (فرانسیسی صدر)
- جارجیا میلونی (اطالوی وزیراعظم)
- اولاف شولز (جرمن چانسلر) جیسا کہ او آئی سی خواتین کانفرنس، اسلام آباد اعلامیہ اور بااختیاری کا عزم جیسے فورمز پر خطے میں استحکام کی بات کی جاتی ہے، یہ تازہ ترین لسٹ عالمی سفارتکاری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔ اسی طرح امیر مقام کا یوم شہدائے جموں و کشمیر پر کشمیریوں کو خراج تحسین کے پس منظر میں علاقائی کشیدگی کے سائے مزید گہرے ہو رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال: اگرچہ ایرانی حکومت نے باضابطہ طور پر اس اخبار کی لسٹ کو اپنی آفیشل ہٹ لسٹ قرار نہیں دیا، تاہم نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے دھمکی آمیز بیان اور اس انفوگرافک کی بیک وقت اشاعت نے واشنگٹن، تل ابیب اور یورپی دارالحکومتوں میں سیکیورٹی الرٹ کو انتہائی ہائی کر دیا ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے وسیع تر تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
