او آئی سی خواتین کانفرنس کے تکنیکی اجلاس، پاکستان چیئرمین شپ سنبھالے گا
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کی میزبانی میں وزارتِ انسانی حقوق کے زیر اہتمام منعقدہ او آئی سی خواتین کی 9ویں وزارتی کانفرنس کے پہلے روز تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں کانفرنس کے ایجنڈے کی منظوری دی گئی اور او آئی سی خواتین کانفرنس: پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز کے تحت او آئی سی پلان آف ایکشن برائے خواتین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس کے اہم موضوعات اور شرکاء
اجلاسوں میں اسلامی دنیا میں خواتین کو درپیش چیلنجز، ان کی سماجی، معاشی اور سیاسی خودمختاری، تعلیم، صحت، مالی شمولیت، فیصلہ سازی میں مؤثر شرکت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمائندگی سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء کو گزشتہ وزارتی کانفرنس کے بعد خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے او آئی سی کے تحت کیے گئے اقدامات اور پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ کی مصروفیات
کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے متعدد رکن ممالک کے وزراء اور اعلیٰ حکام کے علاوہ ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور او آئی سی لیبر سینٹر کے نمائندوں سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں، جن میں خواتین کے حقوق، سماجی تحفظ، خاندانی نظام کے استحکام اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان اور ترکیہ کے درمیان خاندان، سماجی خدمات اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
چیئرمین شپ کی منتقلی اور مستقبل کا لائحہ عمل
وزارتی اجلاس کل وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوگا، جس کے دوران او آئی سی خواتین کانفرنس کی چیئرمین شپ باضابطہ طور پر مصر سے پاکستان کو منتقل کی جائے گی۔ اختتامی اجلاس میں اسلام آباد اعلامیہ اور خواتین کی ترقی و بااختیار بنانے سے متعلق اہم قراردادوں کی منظوری متوقع ہے۔
