اسحاق ڈار کی سعودی ہم منصب سے خطے کی کشیدگی پر گفتگو
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفون پر اہم گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور جون 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود کشیدگی میں ہونے والے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازع کا دوبارہ شدت اختیار کرنا کسی کے مفاد میں نہیں اور یہ وزیراعظم کا امن کے تحفظ کیلئے تحمل اور سفارت کاری پر زور دینے کے عزم کے منافی ہے، جس سے خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سفارتی کوششوں کی اہمیت
سعودی وزیر خارجہ نے جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے مملکتِ سعودی عرب کا مؤقف بیان کیا اور خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر، جہاں حکومت ملک میں معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے اور حال ہی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا اعلان ہوا ہے، وہاں خارجہ محاذ پر بھی پاکستان اپنی متحرک سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کا موقف
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ تمام فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی کی کوششوں کو کامیاب، پُرامن اور بامعنی نتیجے تک پہنچانے کے لیے ضروری وقت اور مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ یاد رہے کہ پاکستان خطے میں سکیورٹی کے معاملات پر گہری نظر رکھتا ہے، جس طرح بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری، ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 57 تک پہنچ چکی ہے، اسی طرح بین الاقوامی تنازعات پر بھی پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ آخر میں دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
