آغا خان ہسپتال میں جدید روبوٹک سرجری کے نئے دور کا آغاز
کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) نے جدید روبوٹک سرجری نظام متعارف کرانے کے لیے دو علیحدہ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے پاکستان بھر کے مریضوں کو جدید ترین اور کم سے کم تکلیف دہ جدید سرجیکل سہولیات تک رسائی میں مزید وسعت حاصل ہوگی۔
مائیکروپورٹ کے ساتھ معاہدہ
ایک معاہدہ مائیکروپورٹ (MicroPort) کے ساتھ کیا گیا ہے جس کے تحت عالمی سطح پر استعمال ہونے والا ٹومائی سرجیکل روبوٹک سسٹم (Toumai Surgical Robotic System) آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے شعبۂ سرجری (Department of Surgery) میں متعارف کرایا جائے گا۔ یہ نظام سرجنز کو یورولوجی، جنرل سرجری، گائناکالوجی، اطفال اور تھوریسک سرجری سمیت کم سے کم چیرا لگا کر کی جانے والی مختلف سرجریوں میں معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ٹومائی سسٹم زیادہ درستی فراہم کرتا ہے اور مریضوں کی صحت یابی کے نتائج کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں جدید ترین 5G ریموٹ سرجری کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
شعبۂ سرجری کے چیئرمین اور پروفیسر برائے پیڈیاٹرک سرجری ڈاکٹر سلیم اسلام نے کہا، "جب ہم سرجری کے مستقبل کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہم معیار، درستگی، حفاظت اور رسائی کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ روبوٹ کی معاونت سے کی جانے والی سرجری دنیا کے ممتاز طبی اداروں میں علاج کا معیاری طریقہ بن چکی ہے یہ اب مستقبل کی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ معیار ہے۔”
اسمتھ اینڈ نیفیو کے ساتھ معاہدہ
ایک اور معاہدہ اسمتھ اینڈ نیفیو (Smith+Nephew) کے ساتھ کیا گیا ہے، جس کے تحت FDA سے منظور شدہ کوری سرجیکل سسٹم (CORI Surgical System) آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے شعبۂ آرتھوپیڈکس (Department of Orthopaedics) میں متعارف کرایا جائے گا۔ کوری سسٹم ایک جدید ترین ہینڈ ہیلڈ روبوٹک پلیٹ فارم ہے جو سرجنز کو روبوٹ کی مدد سے گھٹنے کی مکمل تبدیلی (Total Knee Replacement) کے آپریشن انجام دینے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ مریض کے منفرد جسمانی ڈھانچے کا حقیقی وقت میں تھری ڈی نقشہ تیار کرکے یہ نظام انتہائی ذاتی نوعیت کے جراحی منصوبے اور آپریشن کے دوران بہتر درستگی کو یقینی بناتا ہے۔
شعبۂ آرتھوپیڈکس کے چیئرمین اور کلینیکل پروفیسر ڈاکٹر منصور علی خان نے کہا، "یہ ٹیکنالوجی ہمیں روایتی طریقہ کار سے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرے گی۔ اب ہم غیرمعمولی اور حقیقی وقت کی درستگی کے ساتھ روبوٹ کی مدد سے گھٹنے کی مکمل تبدیلی کے آپریشن انجام دے سکیں گے، جو ہمارے مریضوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔”
ہسپتال انتظامیہ کا عزم
دونوں مفاہمتی یادداشتوں پر آغا خان یونیورسٹی ہسپتال ہیلتھ سسٹم پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پروفیسر آف یورولوجی ڈاکٹر فرحت عباس نے دستخط کیے۔ اس موقع پر شعبۂ سرجری کے چیئرمین اور پروفیسر برائےپیڈیاٹرک سرجری ڈاکٹر سلیم اسلام اور شعبۂ آرتھوپیڈکس کے چیئرمین و کلینیکل پروفیسر ڈاکٹر منصور علی خان بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فرحت عباس نے کہا، "یہ شراکت داریاں اپنے مریضوں تک عالمی معیار کی جدید سرجیکل ٹیکنالوجی پہنچانے کے ہمارے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ روبوٹ کی معاونت سے کی جانے والی سرجری صحت کی درست اور انفرادی نگہداشت (Precision Medicine) کی جانب ایک اہم قدم ہے اور پاکستان میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ طبی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کے ہمارے عزم کو مزید مضبوط بناتی ہے۔”
مریضوں کے لیے فوائد
روبوٹک معاونت سے کی جانے والی سرجری میں ماہر سرجنز کی نگرانی میں نہایت باریک اور انتہائی درست آلات استعمال کیے جاتے ہیں جن کی مدد سے کم سے کم چیروں کے ذریعے پیچیدہ جراحی عمل انجام دیے جاتے ہیں۔ مریضوں کے لیے اس جدید طریقہ کار کا مطلب روایتی اوپن سرجری کے مقابلے میں کم درد، ہسپتال میں مختصر قیام اور زیادہ تیز رفتار صحت یابی ہو سکتا ہے۔ ان عالمی سطح پر تسلیم شدہ نظاموں کو اپنانے کے بعد آغا خان یونیورسٹی ہسپتال متعدد سرجری طریقہ کار میں روبوٹک معاونت سے سرجری کی سہولت فراہم کر سکے گا، جس سے پاکستان اور خطے بھر کے مریضوں کو محفوظ اور جدید سرجیکل سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔
دونوں سسٹمز آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے مرکزی آپریشن تھیٹرز میں نصب کیے جائیں گے جبکہ ان کے باقاعدہ آغاز سے قبل سرجنز اور آپریشن تھیٹر کے عملے کو خصوصی اور جامع تربیت فراہم کی جائے گی۔ توقع ہے کہ روبوٹک سرجری کے طریقہ کار بہت جلد شروع کر دیے جائیں گے اور آئندہ چند ماہ کے دوران مریضوں کے لیے دستیاب ہوں گے۔
ان روبوٹک سسٹمز کے متعارف ہونے سے پاکستان بھر کے مریضوں کو جدید اور کم سے کم چیرا لگا کر کی جانے والی سرجیکل سہولیات تک رسائی میں اضافہ ہوگا جو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے اعلیٰ تربیت یافتہ سرجنز اور کثیرالجہتی طبی ٹیموں کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ سرجیکل عمل میں زیادہ درستگی کے ذریعے یہ ٹیکنالوجی مریضوں کی تکلیف کم کرنے، علاج کے نتائج بہتر بنانے اور صحت یابی کے عمل کو تیز تر کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے مریض جلد اپنی معمول کی زندگی کی سرگرمیوں کی جانب واپس لوٹ سکیں گے۔
