ہربل ادویات کی ضرورت اور ریگولیٹری فریم ورک کا قیام
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہربل ادویات جدید دور کی اہم ضرورت ہیں اور حکومت اس شعبے کو ایک موثر قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شعبہ صحت میں موجود خلا کو پُر کرنے اور مریضوں کو بہترین علاج کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر قسم کے طریقہ علاج کو یکساں اہمیت دینا ضروری ہے۔
قانونی فریم ورک کی عدم موجودگی اور حکومتی اقدامات
سید مصطفیٰ کمال نے تسلیم کیا کہ ہربل اور روایتی ادویات کے حوالے سے اب تک کوئی مناسب قانون سازی یا ریگولیشنز موجود نہیں تھیں، جس کی وجہ سے اس اہم شعبے کو نظر انداز کیا گیا۔ تاہم، وزارت صحت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور مجوزہ قانون سازی وزارت قانون کو بھجوائی جا چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس شعبے کے لیے باقاعدہ ریگولیشنز موجود ہوں گی، جس سے اس کی ترقی اور معیاری مصنوعات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
مختلف طریقہ ہائے علاج میں توازن کی اہمیت
وفاقی وزیر قومی صحت نے واضح کیا کہ اس سیمینار کا مقصد مغربی طرز علاج (ویسٹرن میڈیسن) کی نفی کرنا نہیں بلکہ مختلف طریقہ ہائے علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے نظام میں تمام موثر طریقہ ہائے علاج کو مناسب مقام ملنا چاہیے تاکہ ہر مریض کی ضرورت کے مطابق بہترین علاج فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے تمام شعبوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے کام کرنے پر زور دیا۔
پاکستان کے شعبہ صحت کو درپیش سنگین چیلنجز
سید مصطفیٰ کمال نے ملک کے شعبہ صحت کو درپیش سنگین چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایک مریض کے صحت یاب ہونے میں اوسطاً آٹھ دن لگتے ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر یہ دورانیہ تقریباً تین دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صحت کی سہولیات پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے، اور ہر سال تقریباً 56 لاکھ نئے بچے پیدا ہونے اور بیماریوں میں اضافے کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہسپتالوں کی تعمیر کے باوجود صحت کی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی 85 فیصد ادویات مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں، تاہم ان کے لیے درکار خام مال بڑی حد تک بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے، جو معیشت پر بوجھ بنتا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور حکومتی عزم
وفاقی وزیر نے کہا کہ دو روزہ سیمینار کے اختتام پر ماہرین کی سفارشات اور گائیڈ لائنز کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے گا اور ان کی روشنی میں عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ہربل ادویات کے شعبے کی ترقی اور موثر ضابطہ کاری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتی جائے گی۔ یہ اقدامات نہ صرف علاج معالجے کے بہتر مواقع فراہم کریں گے بلکہ مقامی معیشت کو بھی مضبوط کریں گے۔
