مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 419,998 PKR Bitcoin $80,426 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 419,998 PKR Bitcoin $80,426
تازہ ترین

ترقیاتی بجٹ پر شدید دباؤ کی وجہ سے غیر ضروری منصوبوں کی گنجائش ختم ہو رہی ہے، پی ایس ڈی پی کا حجم 1126 ارب روپے رکھا جا رہا ہے،احسن اقبال

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
ahsan iqbal
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد۔1جون (دوست نیوز):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کا بڑا مالیاتی حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے جس کے باعث ترقیاتی بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ غیر اہم ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنا وفاق کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ جمود کا شکار ہے اور آج بھی تقریباً وہی سطح برقرار ہے جو 2018 میں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں، جبکہ مختلف وزارتوں نے آئندہ مالی سال کے لیے جاری منصوبوں کی مد میں 4 ہزار ارب روپے کی درخواست کی ہے، تاہم مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث 3 ہزار ارب روپے کی طلب پوری نہیں کی جا سکے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں نمایاں فرق پیدا ہو چکا ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران صوبوں کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے بڑھ کر تین ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی سطح پر ہی موجود ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 1126 ارب روپے رکھا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 153 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو قومی مالیاتی کمیشن (NFC) میں حصہ ملنا چاہیے اور وفاق اپنے این ایف سی حصے سے ان علاقوں کی مالی معاونت جاری رکھے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے اور آئندہ بجٹ میں بلوچستان کے لیے 100 ارب روپے مالیت کے منصوبے شامل کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ این-25 شاہراہ کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جبکہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے تجویز کردہ 87 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت غیر یقینی اور عارضی معاشی نمو کے بجائے پائیدار اور مستحکم ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اخراجات میں غیر معمولی اضافہ وقتی طور پر ترقی کی رفتار بڑھا سکتا ہے لیکن ایسی ترقی دیرپا نہیں ہوتی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی جدید خطوط پر ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور سی پیک فیز ٹو کے تحت زرعی تحقیق اور جدید تکنیکوں کے فروغ کے لیے پاکستانی ماہرین کو چین میں تربیت دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک ہزار زرعی ماہرین کی تربیت کا پروگرام جاری ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2019 سے 2022 کے دوران لیے گئے بھاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے اب بڑی رقوم مختص کرنا پڑ رہی ہیں، جس سے ترقیاتی اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔ تاہم حکومت نے معاشی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افراطِ زر کی شرح کو ڈبل ڈیجٹ سے سنگل ڈیجٹ تک لانا ایک بڑی کامیابی ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث مہنگائی پر دباؤ برقرار رہا۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال جولائی تا اپریل مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 34 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ اپریل 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.3 ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں شرح سود 23 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد تک آ چکی ہے۔ وزیراعظم ایسی معاشی ترقی کے خواہاں ہیں جو مضبوط، متوازن اور پائیدار ہو اور جس کی بنیاد برآمدات، پیداواری شعبوں کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر ہو۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
ٹیگز: #pakistan
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں