پاکستان کی تاریخی فتح، فخر زمان کے کئی ریکارڈز، ون ڈے فائنل میں سب سے بڑے ہدف کے تعاقب کا عالمی ریکارڈ برابر
پاکستان کی تاریخی فتح، فخر زمان کے کئی ریکارڈز، ون ڈے فائنل میں سب سے بڑے ہدف کے تعاقب کا عالمی ریکارڈ برابر
*لاہور (3D میڈیا)* پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سہ فریقی ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں کئی انفرادی اور ٹیم ریکارڈز قائم ہوئے۔ پاکستان نے 326 رنز کا ہدف 48.3 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرکے نہ صرف ٹائٹل جیتا بلکہ ون ڈے انٹرنیشنل کے فائنل میں سب سے بڑے کامیاب رن چیز کے عالمی ریکارڈ کی بھی برابری کردی۔
فخر زمان کی 127 رنز کی شاندار اننگز، سعد بیگ کی پہلی ون ڈے نصف سنچری اور عارفات منہاس کی جارحانہ بیٹنگ پاکستان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔
*فخر زمان کے اہم ریکارڈز*
فخر زمان نے 99 گیندوں پر 127 رنز بنائے، جس میں 11 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے۔ یہ ان کے ون ڈے کیریئر کی 12ویں سنچری تھی۔
فخر زمان نے ون ڈے ٹورنامنٹ کے فائنلز میں اپنی دوسری سنچری اسکور کی اور اس طرح وہ پاکستان کے سابق عظیم بلے باز سعید انور کے بعد ون ڈے فائنلز میں دو سنچریاں بنانے والے دوسرے پاکستانی بلے باز بن گئے۔ اس سے قبل انہوں نے 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف سنچری بنائی تھی۔
فخر زمان نے 300 سے زائد رنز کے ہدف کے تعاقب میں اپنی چوتھی ون ڈے سنچری بنائی، جو پاکستانی بلے بازوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل بابر اعظم اور یونس خان تین، تین ایسی سنچریاں بنا چکے ہیں۔
انہوں نے اپنے ون ڈے کیریئر کے 4 ہزار رنز بھی مکمل کرلیے۔ فخر زمان نے یہ سنگ میل 96 اننگز میں حاصل کیا اور وہ پاکستان کی جانب سے یہ کارنامہ انجام دینے والے دوسرے تیز ترین بلے باز ہیں۔ بابر اعظم نے 82 اننگز میں 4 ہزار رنز مکمل کیے تھے۔
*عارفات منہاس کی دھواں دار اننگز*
پاکستان کی کامیابی میں عارفات منہاس نے بھی غیر معمولی کردار ادا کیا۔ انہوں نے صرف 31 گیندوں پر 61 رنز اسکور کیے، جس میں 4 چھکے اور 3 چوکے شامل تھے۔ انہوں نے 28 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔
عارفات منہاس اور حسن نواز نے چھٹی وکٹ کے لیے 94 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کی۔ حسن نواز 45 گیندوں پر 37 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
عارفات منہاس کو پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی پر پلیئر آف دی سیریز قرار دیا گیا۔
*سعد بیگ کی پہلی ون ڈے نصف سنچری*
نوجوان وکٹ کیپر بلے باز سعد بیگ نے 75 گیندوں پر 74 رنز بنائے، جس میں 11 چوکے شامل تھے۔ یہ ان کی پہلی ون ڈے نصف سنچری تھی۔
انہوں نے فخر زمان کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے 149 رنز کی اہم شراکت قائم کی، جس نے پاکستان کو ابتدائی نقصان سے نکال کر ہدف کے تعاقب میں مضبوط پوزیشن میں پہنچایا۔
*پاکستان نے عالمی ریکارڈ کی برابری کردی*
پاکستان نے سری لنکا کے خلاف 326 رنز کا ہدف حاصل کرکے ون ڈے انٹرنیشنل کے فائنل میں سب سے بڑے کامیاب رن چیز کے عالمی ریکارڈ کی برابری کی۔ اس سے قبل بھارت نے 2002 کے نیٹ ویسٹ سیریز فائنل میں انگلینڈ کے خلاف 326 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔
اس فائنل میں دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر 656 رنز بنائے، جو ون ڈے ٹورنامنٹ کے فائنل میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ رنز کا نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل 2002 کے نیٹ ویسٹ سیریز فائنل میں بھارت اور انگلینڈ نے مجموعی طور پر 651 رنز بنائے تھے۔
پاکستان کا 326 رنز کا یہ کامیاب تعاقب ون ڈے کرکٹ میں چھٹا سب سے بڑا کامیاب رن چیز بھی ہے، جبکہ قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا کامیاب ہدف حاصل کرنے کا کارنامہ ہے۔
*کامندو مینڈس کی پہلی ون ڈے سنچری*
سری لنکا کی جانب سے کامندو مینڈس نے 128 گیندوں پر 131 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ یہ ان کے ون ڈے کیریئر کی پہلی سنچری تھی، جس میں 12 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔
انہوں نے پون رتھنائیکے کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے 146 رنز کی شراکت قائم کی۔ پون رتھنائیکے نے 65 گیندوں پر 77 رنز بنائے۔
کامندو مینڈس کا 131 رنز کا انفرادی اسکور ون ڈے فائنلز میں سری لنکا کی جانب سے تیسرا بڑا انفرادی اسکور ہے۔ اس فہرست میں سنتھ جے سوریا کے 189 اور مروان اٹاپٹو کے ناقابل شکست 132 رنز پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔
*پون رتھنائیکے ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بلے باز*
سری لنکا کے پون رتھنائیکے نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 427 رنز بنائے۔ ان کی اوسط 106.75 اور اسٹرائیک ریٹ 122.7 رہا۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں دو سنچریاں اور دو نصف سنچریاں اسکور کیں۔
سری لنکا کی جانب سے کسی سہ فریقی ون ڈے ٹورنامنٹ میں زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں وہ تیسرے نمبر پر آگئے۔ ان سے آگے تلکارتنے دلشان کے 513 اور کمار سنگاکارا کے 469 رنز ہیں۔
*شاہین آفریدی نے وسیم اکرم کے ریکارڈ کی برابری کردی*
فائنل میں دو وکٹیں حاصل کرنے والے قومی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے قذافی اسٹیڈیم میں ون ڈے انٹرنیشنل وکٹوں کی تعداد 23 تک پہنچا دی اور اس طرح وہ اس میدان میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے حوالے سے سابق کپتان وسیم اکرم کے ریکارڈ کے برابر آگئے۔
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف اور سلمان علی آغا نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
*پاکستان نے 2008 کے بعد سہ فریقی سیریز جیتی*
پاکستان نے آخری مرتبہ 2008 میں سہ فریقی ون ڈے سیریز کا ٹائٹل جیتا تھا، جب اس نے بنگلہ دیش میں بھارت کو فائنل میں شکست دی تھی۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان نے طویل عرصے کے بعد ایک مرتبہ پھر سہ فریقی ون ڈے ٹورنامنٹ اپنے نام کرلیا۔
فائنل میں فخر زمان کو میچ کا بہترین کھلاڑی جبکہ عارفات منہاس کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
