ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، ضرورت پڑی تو 10 منٹ میں باقی ماندہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں
ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، ضرورت پڑی تو 10 منٹ میں باقی ماندہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں
*واشنگٹن (3D میڈیا)* امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی فوج ایران کی باقی ماندہ ایک یا دو جوہری تنصیبات کو صرف 10 منٹ میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکی صدر نے 31 اکتوبر کو فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بعض جوہری تنصیبات اب بھی امریکی کارروائی کی زد میں آنے سے باقی ہیں اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ان کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہران معاہدہ کرنے کے بعد اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، اس لیے ایران کو زیادہ قابلِ بھروسا نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا ہوگا کہ ایران واقعی کسی معاہدے تک پہنچنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔
ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ایران معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم امریکہ اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتا۔
ایران پر دوبارہ فوجی حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے اسے بے وقوفانہ سوال قرار دیا، تاہم دعویٰ کیا کہ امریکہ پہلے ہی ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور متعدد جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے۔
ٹرمپ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدے کا امکان برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران پر فوجی کارروائی کے خطرے کو بھی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
