امریکا ایران کی سات شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ، محسن رضائی کا دعوی
امریکا ایران کی سات شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ، محسن رضائی کا دعوی
تہران (3D میڈیا) ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ پاکستان اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن ایران کی سات شرائط تسلیم کر لیتا ہے تو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کا راستہ کھلا رہے گا۔
محسن رضائی نے بتایا کہ تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے حکام کے ساتھ چار فریقی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے کی سلامتی سے متعلق انتظامات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں سلامتی کے کسی بھی نظام میں ایران کی شمولیت ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس چار فریقی اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدے یا یمن کے تنازع پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی بلکہ اجلاس کا بنیادی محور علاقائی سلامتی کے معاملات تھے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کی سات شرائط تسلیم کیے جانے کی صورت میں سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان شرائط کا اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت سے براہِ راست تعلق نہیں اور یہ ایک الگ معاملہ ہے۔
محسن رضائی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو تہران نئے ہتھیاروں کے ذریعے جواب دے گا اور جارح قوت کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
