مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 415,086 PKR Bitcoin $79,738 USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 415,086 PKR Bitcoin $79,738
قومی

تہران اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کا علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

📅 ✍️ ⏱ 7 منٹ
تہران اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کا علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تہران اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کا علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

تہران: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران نے مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ تہران میں چاروں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ علاقائی مسائل کے حل اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت اور سفارتی روابط برقرار رکھے جائیں گے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں 26 اکتوبر کو ہونے والے اس اہم اجلاس کی میزبانی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی نے کی۔ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جبکہ ترکیہ کی نمائندگی قومی انٹیلی جنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) کے سربراہ ابراہیم قالن نے کی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے چاروں ممالک کے وفود سے ملاقات کی۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق چاروں ممالک نے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے اور بالخصوص امن و سلامتی کے معاملات پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے کے ممالک کو مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے اور مشاورت کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔ تاہم اعلامیے میں کسی نئے فوجی اتحاد، مشترکہ دفاعی کمان، فوجی کارروائی یا فوری جنگ بندی کے بارے میں کوئی فیصلہ شامل نہیں کیا گیا۔

اجلاس کے ایجنڈے میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، اسرائیل کی فوجی کارروائیوں، فلسطین اور لبنان کے تنازعات اور خلیجی خطے کو درپیش سکیورٹی خطرات کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ ایرانی حکام کے مطابق اجلاس میں علاقائی سلامتی کے لیے بیرونی مداخلت کے بغیر ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں خطے کے ممالک اپنے سکیورٹی معاملات خود طے کرسکیں۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی نے اجلاس کے بعد علاقائی سلامتی کو خطے کے ممالک کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل اور امن کے قیام کے لیے خود آگے آنا ہوگا۔ ان کے مطابق چار ملکی مذاکرات سے علاقائی تعاون اور سفارتی رابطوں کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تہران اجلاس کا ایک اہم پس منظر ایران اور سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک کے درمیان فوجی تصادم کے امکانات کم کرنا اور عدم جارحیت پر مبنی علاقائی نظام کی تشکیل کے لیے مشاورت کرنا ہے۔ مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ نئے تصادم، خلیج فارس کی سکیورٹی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور اہم تجارتی راستوں کے تحفظ جیسے معاملات بھی اہمیت کے حامل رہے۔

یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں اور سعودی عرب کو لاحق سکیورٹی خطرات بھی علاقائی صورت حال کا اہم حصہ ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان ماضی کی کشیدگی اور یمن میں جاری تنازع کے تناظر میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کا پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ ایک ہی مذاکراتی عمل میں شریک ہونا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

اجلاس میں فلسطین اور لبنان کی صورت حال بھی زیر بحث آئی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور خطے میں اس کی پالیسیوں کے اثرات علاقائی امن کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔ چاروں ممالک کے درمیان ان معاملات پر مشاورت کو خطے میں مشترکہ سفارتی حکمت عملی کی تشکیل کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کا کردار اس اجلاس میں خاص اہمیت کا حامل رہا۔ اسلام آباد گزشتہ عرصے سے ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو فروغ دینے کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران اور ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کو بھی اسی سفارتی عمل کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ اجلاس پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافے کے پس منظر میں بھی اہم ہے۔ اگست 2026 میں مکہ میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کے بعد ایران کے ساتھ اس نوعیت کا اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس علاقائی سفارت کاری میں ایک نئی پیش رفت ہے۔ تاہم ایران اس دفاعی معاہدے کا فریق نہیں ہے اور تہران اجلاس میں اسے کسی نئے دفاعی اتحاد میں شامل کرنے کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب قطر کی سفارتی کوششیں بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری ہیں۔ مختلف سفارتی رابطوں کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس تناظر میں تہران اجلاس کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس اجلاس کی سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران نے اختلافات اور مختلف سکیورٹی ترجیحات کے باوجود مشترکہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے۔ تاہم اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کسی فوری جنگ بندی، تنازع کے خاتمے یا کسی پابند دفاعی معاہدے کا اعلان نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ چاروں ممالک کے درمیان ابھی ابتدائی سطح پر مشاورت اور اعتماد سازی کا عمل جاری ہے۔

اب اس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا چاروں ممالک مذاکرات کو مستقل علاقائی تعاون، کشیدگی میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے کسی قابل عمل مشترکہ حکمت عملی میں تبدیل کر پاتے ہیں یا نہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں