اسرائیلی تاریخ کے اہم ترین انتخابات آج ہوں گے، نیتن یاہو کی سیاسی بقا داؤ پر لگ گئی
*اسرائیلی تاریخ کے اہم ترین انتخابات آج ہوں گے، نیتن یاہو کی سیاسی بقا داؤ پر لگ گئی*
اسلام آباد (رپورٹ: حنیف صابر)
اسرائیل میں آج 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہوں گے جنہیں ملک کی تاریخ کے اہم ترین اور فیصلہ کن انتخابات قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیاسی بقا اور مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے بھرپور مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہ اسرائیل کے پہلے عام انتخابات ہیں۔ انتخابی نتائج نہ صرف نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل بلکہ اسرائیل کی داخلی سیاست، سکیورٹی پالیسی اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے آئندہ حکمت عملی کا بھی تعین کریں گے۔
انتخابات میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور ان کے دائیں بازو کے اتحادیوں کو اپوزیشن کی جانب سے سخت چیلنج درپیش ہے۔ سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد اقتدار میں تبدیلی کے لیے سرگرم ہے۔
انتخابی مہم کے دوران 7 اکتوبر کے حملے میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی، غزہ کی جنگ، ایران اور حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی، مہنگائی، عدالتی اصلاحات اور مذہبی یہودیوں کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ جیسے معاملات مرکزی اہمیت اختیار کیے رہے۔
نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حملے کے دوران سکیورٹی ناکامی اور غزہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ دوسری جانب وہ اپنی فوجی اور سکیورٹی پالیسی کو اپنی حکومت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ کسی ایک جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد سازی اور حکومت تشکیل دینے کے لیے مذاکرات شروع ہوں گے۔
انتخابات کے نتائج اسرائیل میں سیاسی اقتدار کی نئی سمت متعین کرنے کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
