سہیل آفریدی اور کابینہ ارکان حفاظتی تحویل میں، مقدمات میں مطلوب افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، طلال چوہدری

سہیل آفریدی اور کابینہ ارکان حفاظتی تحویل میں، مقدمات میں مطلوب افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، طلال چوہدری
اسلام آباد، 12 اکتوبر 2026: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ کسی مقدمے میں مطلوب نہ ہونے والے افراد کو رہا کردیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ متعلقہ افراد کو گزشتہ روز تحویل میں لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق زیر حراست افراد کے خلاف مقدمات کی موجودگی کی صورت میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
رائٹرز کے مطابق عینی شاہدین اور حکام نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی رہائش گاہ اور اس کے اطراف اہم مقامات کو گھیرے میں لیا گیا، جبکہ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری، نیم فوجی دستے اور شپنگ کنٹینرز تعینات کیے گئے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسف زئی نے زیر حراست افراد کو تحویل میں لیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال اور دہشت گردی کے چیلنجز کے پیش نظر یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کہا تھا کہ کسی فوجداری مقدمے میں مطلوب شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ دیگر زیر تحویل افراد کی رہائی کا فیصلہ متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق کیا جائے گا۔
