مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
منگل، 13 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.92 EUR/PKR 309.35 GBP/PKR 366.00 سونا/تولہ 435,399 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,702 USD/PKR 276.92 EUR/PKR 309.35 GBP/PKR 366.00 سونا/تولہ 435,399 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,702
قومی

پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ صنفی خلیج آٹھ فیصد تک محدود

📅 منگل، 13 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ صنفی خلیج آٹھ فیصد تک محدود
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ایشیا پیسیفک کے خطے میں ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے عملی روڈ میپ کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ تک رسائی میں صنفی خلیج 38 فیصد سے کم کر کے ریکارڈ 8 فیصد پر لا کھڑی کی ہے، ملک میں انٹرنیٹ ہاؤس پاسز 50 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں جبکہ 5G کے دور میں آئندہ تین برسوں کے دوران 60 فیصد ٹیلی کام ٹاورز کو فائبرائز کرنے کا انقلابی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

وہ منگل کو وزارتِ آئی ٹی اور یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) پاکستان کے زیر اہتمام ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی (اے پی ٹی) کے اشتراک سے منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس "اے پی ٹی سمپوزیم برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اینڈ یو ایس ایف” کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر خطاب کررہی تھیں۔ اس اہم موقع پر خیبر پختونخوا میں خوش آئند تبدیلی، دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رہے گی: عطاء اللہ تارڑ کے عزم جیسے ہی قومی ترقی کے اہداف پر گفتگو کی گئی۔ تقریب میں ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی کے سیکرٹری جنرل مسانوری کونڈو، چیئرمین پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے)، ایم ڈی نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی)، ایڈیشنل سیکرٹری ممبر ٹیلی کام توفیق بریرو سمیت عالمی مندوبین، پالیسی ساز اور صنعتی رہنما شریک تھے۔

ڈیجیٹل تبدیلی اور قومی اہداف

وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹوکیو اعلامیے کی روشنی میں یہ سمپوزیم علاقائی ڈیجیٹل تبدیلی کو محض بیانیے سے نکال کر ٹھوس، قابلِ عمل اور جامع حکمت عملی میں بدلنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی ڈیجیٹل تبدیلی اس وقت تک ادھوری ہے جب تک وہ آخری فرد تک کنیکٹیوٹی کی شکل میں نہ پہنچے کیونکہ جدید دور میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی ہی دراصل معاشی استحکام، صحت و تعلیم تک رسائی اور قومی سلامتی کا ضامن بنیادی ڈھانچہ ہے۔ پاکستان میں جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے معیشت کی شرح نمو 4 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، وزیر خزانہ کے دعوے کے عین مطابق آئی ٹی سیکٹر کا کردار نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل صنفی خلیج میں نمایاں بہتری

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے خواتین کو مرکزی معاشی دھارے میں لانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے اور جی ایس ایم اے کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے تیزی سے صنفی ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے والا ملک بن کر ابھرا ہے۔ ایشیا پیسیفک کے تناظر میں انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کے مطابق جہاں دنیا میں 2.2 ارب لوگ آف لائن ہیں وہیں ایشیا پیسیفک میں 48 فیصد آبادی کا آف لائن ہونا عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے جسے ترجیحی بنیاد پر حل کرنا ہوگا۔

ڈیجیٹل نیشن پاکستان ویژن اور انفراسٹرکچر

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی براہِ راست نگرانی میں "ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی کے ذریعے 1 کروڑ سے زائد شہریوں تک ایندھن سبسڈی کی بلاتعطل فراہمی ممکن بنائی گئی۔ پاکستان توانائی تحفظ کیلئے عالمی سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار پر مرکوز ہے جس کی طرح آئی ٹی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ گزشتہ ڈھائی برسوں میں 3 نئی سب میرین کیبلز کا اضافہ کیا گیا، یو ایس ایف کے تعاون سے 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹک فائبر بچھائی گئی اور ہاؤس پاسز 30 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں، اس کے علاوہ ضلعی سطح پر سی واس (CVAS) لائسنسز کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو بااختیار بنایا جا رہا ہے تاکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں آخری میل تک انٹرنیٹ رسائی ممکن ہو سکے۔

مستقبل کے اہداف اور 5G کا فروغ

انہوں نے بتایا کہ 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی تاریخی نیلامی اور ملک میں 5G ٹیکنالوجی کے اجرا کے بعد ٹاور فائبرائزیشن کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے جسے موجودہ 19 فیصد سے بڑھا کر تین سال میں کم از کم 60 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایل ای او سیٹلائٹ ریگولیشنز اور ایف ایس ایس فریم ورک بھی حتمی مراحل میں ہے جس سے نان ٹیرسٹریل نیٹ ورکس کے ذریعے ملک بھر کے دشوار گزار علاقوں میں رابطے کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

ٹیگز: #انٹرنیٹ #ٹیلی کام #ڈیجیٹل پاکستان #شزا فاطمہ خواجہ #صنفی خلیج
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں