مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 10 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,734 USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,734
قومی

سپریم کورٹ نے جامع عدالتی اور ادارہ جاتی اصلاحاتی رپورٹ جاری کر دی

📅 ہفتہ، 10 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
سپریم کورٹ نے جامع عدالتی اور ادارہ جاتی اصلاحاتی رپورٹ جاری کر دی
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مبنی جامع رپورٹ ’’جرنی تھرو ریفارم اینڈ انوویشن 2026‘‘ جاری کر دی ہے۔ یہ اہم دستاویز نومبر 2024 سے ستمبر 2026 تک کے عرصے کے دوران کی گئی عدالتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا احاطہ کرتی ہے۔ اس رپورٹ میں عدالتی عمل کو بہتر بنانے، مقدمات کے مؤثر انتظام اور زیرِ التوا مقدمات کی تعداد میں کمی لانے سے متعلق پیش رفت کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ جس طرح صنعتی ترقی اور کاروباری آسانیوں کیلئے لاہور چیمبر کے ساتھ کام کریں گے: ہارون اختر، اسی طرح ادارہ جاتی بہتری کے لیے نئے اقدامات سامنے لائے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، رپورٹ میں ڈیجیٹل تبدیلی، ادارہ جاتی احتساب اور انصاف تک عوامی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات شامل ہیں۔ رپورٹ میں 86 نکاتی عدالتی اصلاحاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی پیش رفت پیش کی گئی ہے، جس کے لیے منظم نگرانی، خصوصی ورکنگ گروپس اور باقاعدہ جائزے کا نظام وضع کیا گیا تھا۔

اصلاحات اور کارکردگی میں نمایاں پیش رفت

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کے فیصلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پرانے اور طویل عرصے سے زیرِ التوا مقدمات کے فیصلوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ عدالتی کارکردگی کی نگرانی کے لیے ڈیٹا پر مبنی نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ جیسے اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، اسی طرح عدالتی خدمات میں بھی شفافیت کو ترجیح دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی ڈیجیٹل خدمات میں توسیع اور عدالتی طریقۂ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے تحت ملک گیر سطح پر عدالتی اصلاحات پر ہونے والی پیش رفت بھی اس جامع رپورٹ کا حصہ ہے۔

ٹیکنالوجی کا استعمال اور عوامی سہولیات

رپورٹ میں ترجیحی مقدمات کے مقررہ مدت میں فیصلوں اور ماڈل ٹرائل کورٹس کے قیام کو اہم اصلاحاتی اقدامات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نظامِ انصاف میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور عدالتی تجزیاتی نظام کی ترقی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدالتی خدمات تک رسائی کو آسان بنانے اور سائلین کی سہولت کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ ریٹیلرز ٹیکس سکیم کا مقصد تاجروں کو مستقل ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے، اسی طرز پر عدالتی نظام میں بھی شفافیت، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی سہولیات کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات شامل ہیں۔ مزید برآں، رپورٹ میں سپریم کورٹ کے بین الاقوامی عدالتی تعاون میں توسیع اور ادارہ جاتی روابط کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ عدالتی اصلاحات کا بنیادی مقصد نظامِ انصاف کو مزید مؤثر، قابلِ رسائی، شفاف اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ واضح رہے کہ ’’جرنی تھرو ریفارم اینڈ انوویشن 2026‘‘ عدالتی اصلاحات کی پیش رفت اور قابلِ پیمائش کامیابیوں کا ایک مستند ادارہ جاتی ریکارڈ ہے، جو مزید بہتری کے لیے جاری اقدامات کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ رپورٹ کا مکمل متن سپریم کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

ٹیگز: #ادارہ جاتی اصلاحات #انصاف #پاکستان #سپریم کورٹ #عدالتی اصلاحات
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں