پولٹری انڈسٹری کی ترقی کیلئے مقامی سطح پر اقدامات یقینی ہیں، محمد اورنگزیب

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو کا انعقاد کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا، پاکستان پولٹری کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا 11 واں بڑا ملک ہے اور اس اہم شعبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے مقامی سطح پر ٹھوس اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کے روز لاہور میں منعقدہ انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو 2026 سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پولٹری سیکٹر معاشی استحکام کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل
وزیر خزانہ نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپو میں 200 سے زائد سٹالز کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ کاروباری برادری اس شعبے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں پولٹری کا شعبہ 15 لاکھ خاندانوں کا روزگار ہے، جو سالانہ 2.5 ارب کلوگرام گوشت اور 28 ملین سے زائد انڈوں کی پیداوار فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح صنعتی ترقی اور کاروباری آسانیوں کیلئے لاہور چیمبر کے ساتھ کام کریں گے: ہارون اختر، اسی طرح حکومت پولٹری انڈسٹری کو درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے بھی پرعزم ہے۔
برآمدات میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
سینیٹر محمد اورنگزیب نے نشاندہی کی کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے خطے میں گوشت کی برآمدات میں پولٹری کا حصہ تاحال کم ہے اور قومی سطح پر اس کی برآمدات کا حجم 4 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کر سکا۔ انہوں نے زور دیا کہ پولٹری کی صنعت ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، لیکن زرعی معیشت اور لائیو سٹاک کے فروغ کیلئے پولٹری میں جدید ٹیکنالوجیز کا نفاذ ناگزیر ہے۔
نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور حکومتی عزم
وفاقی وزیر نے کہا کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے انڈوں اور مرغی کے گوشت کی تسلسل کے ساتھ فراہمی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ پولٹری کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ حکومت اس شعبے کے مسائل حل کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جس طرح حکومت مختلف تجارتی پالیسیوں پر کام کر رہی ہے، اسی طرح ریٹیلرز ٹیکس سکیم کا مقصد تاجروں کو مستقل ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے، تاکہ ملکی معیشت کے تمام شعبے مستحکم ہو سکیں۔
