مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 10 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,747 USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,747
قومی

ناوی پلے کو امن کا نوبل انعام ملنے کے بعد امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں، نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کیے تھے

📅 ہفتہ، 10 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ناوی پلے کو امن کا نوبل انعام ملنے کے بعد امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں، نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کیے تھے
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ناوی پلے کو امن کا نوبل انعام ملنے کے بعد امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں، نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کیے تھے

واشنگٹن: امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت پر بطور ادارہ نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اعلان جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی علم بردار ناوی پلے کو 2026ء کا نوبل امن انعام دیے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 9 اکتوبر کو پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ امریکہ عالمی فوجداری عدالت کے اس اختیار کو تسلیم نہیں کرتا جس کے تحت وہ امریکی شہریوں یا حکام کے خلاف کارروائی کر سکے۔

امریکی اقدامات کے تحت عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ بعض مالی لین دین پر پابندی عائد کی گئی ہے اور امریکی مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور ڈالر کے نظام تک اس کی رسائی محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امریکی اداروں کو عدالت کے ساتھ کاروباری تعلقات ختم کرنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت بھی دی گئی ہے، جبکہ بعض ضروری سرگرمیوں کے لیے استثنا فراہم کیا گیا ہے۔

امریکی حکومت نے پابندیوں کے جواز میں عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے امریکی اہلکاروں سے متعلق تحقیقات اور اسرائیلی قیادت کے خلاف کارروائیوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ عدالت کو ایسے امریکی شہریوں کے خلاف دائرۂ اختیار استعمال نہیں کرنا چاہیے جو امریکہ کے مطابق اس کے قانونی دائرے میں نہیں آتے۔ امریکہ روم معاہدے کا فریق نہیں ہے، جس کے تحت عالمی فوجداری عدالت قائم کی گئی تھی۔

عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024ء میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ یہ وارنٹ عدالت کے پری ٹرائل چیمبر نے جاری کیے تھے، ناوی پلے نے ذاتی طور پر نہیں۔ اسرائیلی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

عالمی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایک آزاد عدالتی ادارے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ عدالت کے مطابق وہ نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات اور قانونی کارروائیوں سے متعلق اپنا مینڈیٹ جاری رکھے گی۔ انسانی حقوق کے حامی حلقوں نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پابندیاں سنگین بین الاقوامی جرائم کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

ناوی پلے کو 9 اکتوبر 2026ء کو امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔ وہ جنوبی افریقہ کی معروف قانون دان، اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی عدالتی اداروں میں جج رہ چکی ہیں۔ نوبل کمیٹی نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کو جواب دہ بنانے کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔

ناوی پلے کو نوبل امن انعام ملنے اور امریکہ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیوں کا اعلان ایک ہی روز سامنے آیا۔ تاہم امریکی حکومت نے پابندیوں کی وجوہات میں عدالت کے دائرۂ اختیار اور امریکی و اسرائیلی قیادت سے متعلق اس کی کارروائیوں پر اعتراضات کا حوالہ دیا ہے؛ دستیاب بیانات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پابندیاں براہِ راست ناوی پلے کو نوبل انعام ملنے کی وجہ سے عائد کی گئیں۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں