مانَو بھارتی یونیورسٹی کا جعلی ڈگری اسکینڈل، 36 ہزار اسناد فروخت ہونے کا انکشاف

مانَو بھارتی یونیورسٹی کا جعلی ڈگری اسکینڈل، 36 ہزار اسناد فروخت ہونے کا انکشاف
شملہ: بھارتی ریاست ہماچل پردیش کی مانَو بھارتی یونیورسٹی سے منسلک جعلی ڈگریوں کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا، جس میں 11 سال کے دوران تقریباً 36 ہزار جعلی ڈگریاں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ دوسری جانب، امریکہ میں ہنرمند غیرملکی کارکنوں کی بھرتی اور گرین کارڈ کے حصول کے طریقہ کار سے متعلق سخت اقدامات نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی 31 جنوری 2021ء کی رپورٹ کے مطابق، سولن میں قائم مانَو بھارتی یونیورسٹی کے خلاف تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے انکشاف کیا تھا کہ یونیورسٹی سے متعلق جعلی ڈگریوں کا نیٹ ورک بھارت کی 17 ریاستوں تک پھیلا ہوا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 41 ہزار ڈگریوں کی جانچ کے دوران صرف 5 ہزار کو حقیقی قرار دیا گیا، جبکہ تقریباً 36 ہزار ڈگریاں جعلی پائی گئیں۔
بھارتی تحقیقاتی ادارے ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ نے 10 جنوری 2025ء کو جاری کردہ بیان میں بتایا کہ اس اسکینڈل میں جعلی ڈگریوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا تخمینہ 387 کروڑ بھارتی روپے لگایا گیا تھا۔ ادارے نے اس معاملے میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت ملزمان کے اثاثوں کے خلاف کارروائیوں کی بھی تفصیلات جاری کی تھیں۔
دوسری جانب، امریکہ میں مستقل رہائش کے لیے غیرملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام پر بھی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ 8 اکتوبر 2026ء سے متعلق رپورٹوں کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے مستقل لیبر سرٹیفکیشن پروگرام، جسے پی ای آر ایم کہا جاتا ہے، کے تحت بعض درخواستوں کی کارروائی روکنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام سے مائیکروسافٹ، ایڈوب، انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وِپرو اور ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے غیرملکی کارکنوں کی بھرتی کے طریقہ کار، امریکی کارکنوں کے روزگار کے تحفظ اور مستقل رہائش کے لیے لیبر سرٹیفکیشن کے نظام سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔ تاہم، پی ای آر ایم پروگرام کے تحت کارروائی روکنے کو ایچ ون بی ورک ویزا پر مکمل پابندی یا بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے تمام بھرتی لائسنس منسوخ ہونے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایچ ون بی عارضی ورک ویزا اور گرین کارڈ کے لیے مستقل لیبر سرٹیفکیشن دو الگ قانونی طریقہ کار ہیں۔
ادھر قبرص میں بھارتی ہائی کمیشن نے 26 مارچ 2019ء کو ایک سرکاری انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ بعض ایجنٹ طلبہ اور ملازمت کے خواہش مند افراد کے لیے جعلی پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ، جعلی تعلیمی اسناد اور جعلی تصدیقی مہریں استعمال کر رہے ہیں۔ ہائی کمیشن نے بھارتی شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی دستاویزات کی صداقت کی تصدیق کریں اور ایجنٹوں کے فراہم کردہ کاغذات پر بلا تحقیق اعتماد نہ کریں۔
ان واقعات سے تعلیمی اسناد کی جعل سازی اور امیگریشن کے نظام میں ممکنہ دھوکا دہی کے مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے۔
