مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 10 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,747 USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,747
قومی

ریٹیلرز ٹیکس سکیم کا مقصد تاجروں کو مستقل ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے

📅 ہفتہ، 10 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ریٹیلرز ٹیکس سکیم کا مقصد تاجروں کو مستقل ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریٹیلرز ٹیکس سکیم کا مقصد چھوٹے تاجروں کو محض ایک سال کے لئے نہیں بلکہ آئندہ برسوں میں بھی باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔ حکومت تاجروں کے لئے ٹیکس طریقہ کار آسان بنانے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت خزانہ میں ریٹیلرز ٹیکس سکیم پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ادارے کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ ٹیکس نظام میں آسانیاں حکومت ملک میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، جیسا کہ حال ہی میں راولپنڈی چیمبر کا انتظامیہ کے ساتھ کاروباری سہولیات پر اتفاق جیسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت ٹیکس کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور تاجروں کو اپنی ٹیکس ذمہ داریاں پوری کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سکیم چھوٹے تاجروں کو آسان طریقے سے رسمی ٹیکس نظام میں شامل ہونے اور ملکی اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اجلاس میں سکیم کے تحت رجسٹریشن اور ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا جس میں پہلے سے ٹیکس نظام میں شامل افراد کی شرکت اور ٹیکس ادائیگیوں سے متعلق قابل اطلاق تقاضوں پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے سکیم پر عملدرآمد کے تجربات کا جائزہ لینے اور اس کی مؤثریت بڑھانے کے لئے عملی مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈیٹا کی تصدیق اور رجسٹریشن اجلاس کو غیر رجسٹرڈ تاجروں کی نشاندہی اور دستیاب ڈیٹا اور متعلقہ شناختی ریکارڈ کی مدد سے ان کی تفصیلات مرتب کرنے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ایف بی آر حکام نے ڈیٹا کی تصدیق کے عمل اور رجسٹریشن ریکارڈ میں متعلقہ کاروباروں کی درست تفصیلات یقینی بنانے کی اہمیت پر بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لئے متوازن حکمت عملی اپنانا ضروری ہے جس کے تحت سہولت کاری کے اقدامات ہدفی، مؤثر اور مستند ریکارڈ پر مبنی ہوں۔ اجلاس میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے طریقہ کار، مقررہ تاریخوں اور دیگر انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ معاشی دستاویزی عمل اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ چھوٹے تاجروں کے لئے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد آسان اور قابل رسائی بنایا جائے جبکہ بتدریج معاشی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دے کر ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سکیم کے تحت پائیدار پیشرفت کے لئے تاجروں کو مؤثر سہولتوں کی فراہمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ عملدرآمد ناگزیر ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ریٹیلرز ٹیکس سکیم کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے اور ٹیکس نظام کو مزید وسیع کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جس سے ملک میں اسلامی ممالک کے مابین معاشی انضمام اور تجارتی تعلقات میں بہتری کے اہداف حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ ملک میں تاجر برادری کے تحفظات دور کیے جا سکیں، جس طرح راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے وفد کی حمزہ شہباز سے ملاقات کے دوران کاروباری طبقے کے مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا۔

ٹیگز: #ایف بی آر #ٹیکس نیٹ #ریٹیلرز ٹیکس سکیم #محمد اورنگزیب #معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں