100 ارب ڈالر برآمدی ہدف کیلئے طویل المدت پالیسی ناگزیر ہے

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اور فیروز پور روڈ بورڈ کے سینئر نائب صدر خادم حسین نے کہا ہے کہ ملک کا 100 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف حاصل کرنے کیلئے غیر معمولی اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس اہم مقصد کے حصول کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے ایک طویل المدت اور جامع پالیسی تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے۔
موجودہ معاشی صورتحال اور تجارتی خسارہ
اپنے ایک بیان میں خادم حسین نے کہا کہ موجودہ صنعتی و معاشی صورتحال میں جس رفتار سے کام ہو رہا ہے، اس کے ساتھ یہ ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مالی سال 2025-26 کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملکی برآمدات 30.1 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات کا حجم 69.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں 39.6 ارب ڈالر کا بھاری تجارتی خسارہ سامنے آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خسارے کو بڑی حد تک ترسیلات زر نے سہارا دیا، تاہم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ترسیلات زر کو طویل مدت کیلئے بیرونی ادائیگیوں کا مستقل اور پائیدار حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
برآمدات بڑھانے کے لیے عملی اقدامات
خادم حسین نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو ترسیلات زر کو ملکی صنعتی و برآمدی کمزوریوں کا متبادل بنانے کے بجائے برآمدی صلاحیت میں اضافے پر توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کیلئے آئندہ دہائی کے دوران برآمدات میں اوسطاً 10 فیصد سالانہ مسلسل اضافہ ناگزیر ہے۔ یہ وہی عزم ہے جس پر عمل پیرا ہو کر نوجوانوں کو بااختیار بنا کر پاکستان کی معاشی صلاحیت اجاگر کریں، کیونکہ ملک کی ترقی کا دارومدار صنعت کاری کے فروغ پر ہے۔
پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت
سابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس نے مزید کہا کہ برآمدی اہداف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے۔ اگر حکومت صنعت کاروں سے پانچ سالہ برآمدی منصوبہ طلب کرتی ہے، تو اسے توانائی، ٹیکس، کسٹمز، شرح مبادلہ اور درآمدی قواعد سمیت اہم شعبوں میں کم از کم پانچ سال کا قابلِ اعتماد اور مستحکم پالیسی فریم ورک بھی فراہم کرنا ہوگا، تاکہ سرمایہ کار اور برآمد کنندگان طویل المدت منصوبہ بندی کر سکیں۔ یاد رہے کہ ملک میں معاشی بہتری کے لیے اسٹیٹ بینک کا ہاؤسنگ فنانس قوانین میں تاریخی اوور ہال، 30 سالہ قرض اور 90 فیصد تک فنانسنگ کی اجازت جیسے اقدامات صنعت کو سہارا دینے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح، ملکی دفاع اور سلامتی کے اداروں کے لیے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم منظور کی جا چکی ہیں جو ملک میں سیاسی استحکام کی ضمانت ہیں۔
