مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 258,500 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,972 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 258,500 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,972
قومی

وزارت صحت کے تمام ملازمین اور 12 سال سے زائد تمام آبادی کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ لازمی قرار

📅 منگل، 18 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
وزارت صحت کے تمام ملازمین اور 12 سال سے زائد تمام آبادی کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ لازمی قرار
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

وزارت صحت کے تمام ملازمین اور 12 سال سے زائد تمام آبادی کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ لازمی قرار

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے وزارت صحت کے تمام ملازمین، وزیر سے لے کر آفس بوائے تک، کی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ لازمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کے تحت ملک بھر میں 12 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کی اسکریننگ یقینی بنائی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے وزارت صحت کے افسران اور ملازمین کی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کے تمام اداروں اور وفاقی وزارتوں کو خطوط بھی ارسال کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کے تمام ملازمین کی اسکریننگ مکمل کی جائے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ قومی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ پروگرام کا آغاز اسلام آباد سے کیا گیا ہے کیونکہ یہ پورے پاکستان کے لیے قومی پروگرام ہے۔ اسلام آباد میں سرکاری سطح پر 17 اسکریننگ سینٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ نجی ہسپتالوں کو بھی اسکریننگ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے سامان اور آلات فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کا ہدف ملک بھر میں 12 سال سے زائد عمر کے ہر فرد کی اسکریننگ کرنا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے کٹس اور ضروری آلات کا انتظام کرلیا گیا ہے اور وہاں بھی جلد اسکریننگ شروع کی جائے گی، جبکہ صوبے بھی بتدریج اس قومی مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور دیگر اہم داخلی و خارجی مقامات پر بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والے افراد کی بھی اسکریننگ کی جا رہی ہے، جبکہ آئندہ دو سے تین ماہ میں پروگرام کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسکریننگ کے پورے نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے منسلک کیا گیا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مردم شماری کے لیے استعمال ہونے والے جدید آلات سے استفادہ کیا جا رہا ہے اور اسکریننگ کا تمام ڈیٹا ڈیجیٹل اور ریئل ٹائم بنیادوں پر ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق اسکریننگ کا ریکارڈ نادرا کے ڈیٹا سے منسلک ہوگا، جس سے ہر فرد کی اسکریننگ کی معلومات مستقبل میں بھی دستیاب رہیں گی۔

وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں، تاہم ملک بھر کی اسکریننگ مکمل ہونے کے بعد ہی متاثرہ افراد کی اصل تعداد سامنے آسکے گی۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے کیریئرز کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے بیماری کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر اسکریننگ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک خاموش اور خطرناک بیماری ہے جس کا اکثر دیر سے پتہ چلتا ہے۔ بروقت تشخیص نہ ہو تو یہ جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور بالآخر جگر کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، تاہم ابتدائی مرحلے میں تشخیص کی صورت میں اس کا مؤثر اور مکمل علاج ممکن ہے۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ حکومت ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو تین ماہ کی علاج کی دوا مکمل طور پر مفت فراہم کر رہی ہے، جس کی مالیت تقریباً 34 ہزار روپے ہے۔ ضرورت پڑنے پر دوسرا کورس بھی فراہم کیا جا سکتا ہے، یوں ایک مریض کو تقریباً 68 ہزار روپے تک کی ادویات مفت فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اسکریننگ ٹیسٹ بھی عوام کے لیے مکمل طور پر مفت ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ انہوں نے خود بھی ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کرائی اور الحمدللہ ان کا ٹیسٹ منفی آیا۔ انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ شناختی کارڈ کے ساتھ قریبی اسکریننگ سینٹر جائیں اور چند منٹ میں اپنا ٹیسٹ کروائیں۔

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ 12 سال سے زائد عمر کے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کی بھی اسکریننگ ضرور کرائیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بروقت تشخیص نہ صرف فرد بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت نے عوام کو اسکریننگ اور علاج کی سہولت مفت فراہم کردی ہے، اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی قومی مہم میں حکومت کا ساتھ دیں۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں