ٹرمپ سی این این کی خاتون صحافی پر بھڑک اٹھے، ’’خاموش رہو، تم جعلی رپورٹر ہو‘‘، جنگی جہاز کی خبر بھی فیک نیوز قرار دیدی

ٹرمپ سی این این کی خاتون صحافی پر بھڑک اٹھے، ’’خاموش رہو، تم جعلی رپورٹر ہو‘‘، جنگی جہاز کی خبر بھی فیک نیوز قرار دیدی
واشنگٹن، 18 اگست: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سی این این کی سینئر وائٹ ہاؤس نمائندہ کرسٹن ہومز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں بار بار خاموش رہنے کا حکم دے دیا اور سی این این کی رپورٹنگ کو ’’فیک نیوز‘‘ قرار دیتے ہوئے صحافی کو ’’جعلی رپورٹر‘‘ کہہ دیا۔
یہ تلخ واقعہ 17 اگست کو اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران پیش آیا جہاں ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔ کرسٹن ہومز نے صدر سے جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوجی مشقیں محدود کرنے اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے رابطوں کے حوالے سے سوالات کیے تو ٹرمپ کا لہجہ اچانک جارحانہ ہوگیا۔
ہومز نے خاص طور پر یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا کم جونگ اُن نے ٹرمپ سے جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوجی سرگرمیاں اور مشترکہ مشقیں کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سوال پر ٹرمپ نے براہ راست جواب دینے کے بجائے کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات اور شمالی کوریا کے حوالے سے اپنی پالیسی کا دفاع شروع کردیا۔
جب صحافی نے دوبارہ سوال جاری رکھنے کی کوشش کی تو ٹرمپ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’خاموش رہو‘‘ اور اسے ’’بے حد بے باک اور شور مچانے والی‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے پھر پوچھا کہ وہ کس ادارے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہومز نے جواب دیا کہ وہ سی این این سے ہیں، جس پر صدر نے فوری طور پر کہا کہ ’’فیک نیوز‘‘ اور بعد ازاں اسے ’’فیک رپورٹر‘‘ بھی قرار دیا۔
ٹرمپ کا یہ رویہ اس وقت سامنے آیا جب جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوجی تعاون پہلے ہی شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ صدر نے 17 اگست کو پینٹاگون کو ہدایت کی کہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ یہ فیصلہ سالانہ ’’اولچی فریڈم شیلڈ‘‘ مشقوں کے آغاز کے موقع پر کیا گیا، جن میں تقریباً 18 ہزار جنوبی کوریائی فوجی شریک ہیں۔
ٹرمپ نے مشقوں میں کمی کے لیے اخراجات کو ایک وجہ قرار دینے کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی اقدامات میں مطلوبہ تعاون نہ کرنے پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ فوجی مشقوں میں کمی سے خطے میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے۔
اسی پس منظر میں کرسٹن ہومز کا سوال صدر کے لیے سیاسی طور پر حساس تھا کہ اگر واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان براہ راست رابطے موجود ہیں تو کیا جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوجی مشقوں میں کمی شمالی کوریا کی خواہش یا مطالبے سے متاثر ہوئی ہے۔
تاہم معاملہ صرف جنوبی کوریا تک محدود نہیں رہا۔ اسی میڈیا سیشن میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود فوجیوں کے حالات کے بارے میں سوال اٹھایا گیا۔ صحافی نے صدر سے پوچھا کہ کیا طویل عرصے سے سمندر میں موجود اس جہاز پر امریکی فوجیوں کے لیے خوراک کافی مقدار میں موجود ہے؟
ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کے حالات سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جہاز پر سب کچھ ٹھیک ہے اور خوراک کی قلت سے متعلق رپورٹ ’’سی این این کی فیک رپورٹ‘‘ تھی۔
یہ معاملہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن ایک طویل اور غیر معمولی تعیناتی سے گزر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جوہری طاقت سے چلنے والا یہ طیارہ بردار بحری جہاز 240 سے زائد دن تک سمندر میں رہ چکا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں تعیناتی کی مدت 250 دن سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔ اس دوران جہاز کے عملے کی خوراک، سپلائی، رہائشی سہولیات، صفائی اور ذہنی دباؤ سے متعلق تشویش سامنے آتی رہی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں جہاز پر سامان اور خوراک کی قلت، بعض بنیادی سہولیات میں مسائل اور عملے کی ذہنی صحت سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض رپورٹس میں انتہائی طویل تعیناتی کے باعث ملاحوں اور ان کے خاندانوں میں بڑھتی ہوئی تشویش کی بھی نشاندہی کی گئی۔
ٹرمپ نے تاہم ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے جہاز کے حالات کو درست قرار دیا اور سی این این کی رپورٹنگ کو نشانہ بنایا۔ یوں جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں سے شروع ہونے والا سوال جواب کا سلسلہ براہ راست امریکی فوجیوں کے حالات اور میڈیا کی رپورٹنگ پر صدر کے سخت حملے میں تبدیل ہوگیا۔
اس واقعے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کی جانب سے کرسٹن ہومز پر تنقید صرف اوول آفس تک محدود نہیں رہی۔ وائٹ ہاؤس کے ’’ریپڈ رسپانس‘‘ اکاؤنٹ نے بھی صحافی کو نشانہ بنایا اور اس کے سوال کو ذاتی نوعیت کی تنقید کا موضوع بنایا، جس پر سی این این نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنی نمائندہ کی حمایت کی۔
سی این این نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس طرز عمل کو صحافت اور آزاد میڈیا پر غیر معمولی دباؤ قرار دیا جبکہ نیٹ ورک کے متعدد اینکرز اور صحافیوں نے کرسٹن ہومز کے دفاع میں آواز اٹھائی۔ دوسری جانب ٹرمپ کے حامی حلقے صدر کے مؤقف کو یہ کہہ کر درست قرار دے رہے ہیں کہ سی این این سمیت امریکی میڈیا کے بعض اداروں کی رپورٹنگ میں جانبداری پائی جاتی ہے۔
تاہم واقعے کی ویڈیو نے تنازعے کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ریکارڈ شدہ مناظر میں صدر ٹرمپ کو صحافی کو بار بار خاموش رہنے کے لیے کہتے اور اس کے ادارے کا نام معلوم ہونے کے بعد سی این این کو ’’فیک نیوز‘‘ قرار دیتے ہوئے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایک طرف ایران کے خلاف جنگ اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتیوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے اور دوسری جانب جنوبی کوریا سمیت روایتی امریکی اتحادیوں کے ساتھ واشنگٹن کی دفاعی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔
خصوصاً یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کا معاملہ اس لیے حساس ہے کہ اگر جہاز پر واقعی خوراک، بنیادی سہولیات یا عملے کی ذہنی صحت کے مسائل موجود ہیں تو یہ محض میڈیا کا تنازع نہیں بلکہ امریکی بحریہ کی آپریشنل تیاری اور فوجیوں کی فلاح و بہبود سے براہ راست متعلق معاملہ بن جاتا ہے۔
یوں وائٹ ہاؤس کا یہ واقعہ محض ایک صدر اور صحافی کے درمیان تلخ کلامی نہیں رہا بلکہ اس نے بیک وقت تین بڑے سوالات کھڑے کردیے ہیں: جنوبی کوریا کے دفاع میں امریکی پالیسی کس سمت جارہی ہے، طویل جنگی تعیناتیوں کا امریکی فوجیوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے، اور کیا ٹرمپ انتظامیہ مشکل سوالات اٹھانے والے میڈیا اداروں کے خلاف ذاتی حملوں کو سیاسی حکمت عملی کے طور پر استعمال کررہی ہے۔
17 اگست کا یہ واقعہ امریکی سیاست میں ٹرمپ اور مین اسٹریم میڈیا کے درمیان جاری طویل محاذ آرائی کی ایک نئی اور انتہائی نمایاں کڑی بن گیا ہے۔
