پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت، معین وٹو
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں معین وٹو نے کہا ہے کہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے، دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں وفاقی وزرا کے ہمراہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے دورے کے موقع پر میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔
پانی کے وسائل کا موثر انتظام ناگزیر
وفاقی وزیر آبی وسائل نے کہا کہ پاکستان کو ایک جانب سیلابی خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومتی تیاریوں اور صورتحال تو دوسری جانب پانی کی قلت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ فوڈ سکیورٹی کا معاملہ بھی اہم نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام چیلنجز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے پانی کے وسائل کا موثر انتظام ناگزیر اور ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔
آبی منصوبوں کی تکمیل کا عزم
میاں معین وٹو نے مختلف آبی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم ایک بڑا منصوبہ ہے جس میں 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، داسو منصوبہ بھی اہم نوعیت کے آبی منصوبوں میں شامل ہے جبکہ مہمند ڈیم میں تقریباً ایک ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ پانی کی فراہمی بھی بہتر ہوگی۔
کے فور منصوبہ اور کراچی میں پانی کی فراہمی
انہوں نے کہا کہ کراچی کا کے فور منصوبہ بھی اہم نوعیت کا حامل ہے جو رواں سال کے اختتام یا آئندہ سال تک مکمل ہو جائے گا جس سے شہر میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے زرعی تحفظ پر توجہ کی ضرورت ہے، جس کے لیے پانی کا درست استعمال کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
