مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی، پاکستان سمیت 8 ممالک کی مذمت
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ممالک نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے تاریخی و قانونی تشخص کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ بیان پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔
اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں
اعلامیے میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کے مسلسل داخلوں، انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں ہونے والی کارروائیوں، اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی سرپرستی، مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے، پولیس کی جانب سے خیمے نصب کرنے اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات کی سخت مذمت کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی، نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دیتے ہیں، جیسا کہ آبادی میں توازن پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ بیانات میں بھی عالمی امن کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ اشتعال انگیزی دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت کا تحفظ ضروری
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کے قدیم شہر اور مقدس مقامات تک رسائی پر پابندیاں، بالخصوص مسلمانوں کے لیے امتیازی اور من مانے اقدامات، بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ایک غیر قانونی کوشش ہیں۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کا مقبوضہ یروشلم اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختار حق نہیں اور مقبوضہ شہر کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کی تمام کوششیں ناقابل قبول ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اومان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران بھی خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اردن کی نگرانی کا قانونی حق
اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اس کے انتظام و انصرام کا واحد قانونی اختیار اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ کے پاس ہے۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ طاقت ہونے کے ناطے قدیم شہر یروشلم تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں فوری ختم کرے، مسلمان نمازیوں کو بلا رکاوٹ مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت دے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے خلاف تمام اشتعال انگیز اور غیر قانونی اقدامات سے باز رہے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم میں جاری غیر قانونی اقدامات، مقدس مقامات کی بے حرمتی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے روکنے کے لیے مؤثر اور مضبوط کردار ادا کرے۔ مزید برآں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا آسیان کے 33 ویں اجلاس سے خطاب میں بھی عالمی سطح پر جارحیت کے خاتمے پر زور دیا گیا تھا۔ آٹھوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یروشلم کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تاریخی اور قانونی تشخص کے تحفظ، ہاشمی سرپرستی کے کردار کے احترام اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
