وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کی امریکی ہم منصب سے اہم ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگ زیب نے امریکہ کے دورے کے دوران اپنے امریکی ہم منصب سکاٹ بیسنٹ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے معاشی استحکام کا سفر
وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگ زیب نے امریکی وزیر خزانہ کو پاکستان میں میکرواکنامک استحکام لانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور ملک کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی گروتھ کی طرف گامزن کرنے کے سفر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اصلاحاتی عمل تیزی سے جاری ہے۔ جیسا کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں جاری ترقیاتی عمل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ادارہ جاتی ہم آہنگی ضروری ہے، انعام حیدر نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے۔
علاقائی صورتحال اور معاشی چیلنجز

ملاقات کے دوران، وزیرِ خزانہ نے علاقائی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے باوجود، پاکستان اپنی معاشی پالیسیوں میں تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نہ صرف داخلی استحکام پر توجہ دے رہی ہے بلکہ بین الاقوامی مارکیٹوں میں بھی اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکہ سے تعاون کی توقعات
سینیٹر محمد اورنگ زیب نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگز میں اضافے جیسے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان شعبوں میں امریکی تعاون کا خیرمقدم کرے گا تاکہ ملک کی مالیاتی صلاحیتوں کو مزید بڑھایا جا سکے۔ یہ پیش رفت اسی طرح اہمیت رکھتی ہے جیسے اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کے بعد معاشی ٹیم اپنی حکمت عملی کو مزید موثر بنا رہی ہے۔
سرمایہ کاری اور تذویراتی منصوبوں کا فروغ
دونوں اطراف سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ امریکی سرمایہ کاری میں اضافے اور باہمی دلچسپی کے تذویراتی منصوبوں کی پیش رفت کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تعاون خطے میں معاشی استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں یاد رہے کہ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی جی ایچ کیو میں جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد خطے کی سکیورٹی اور معاشی صورتحال پر بھی اہم پیش رفت متوقع ہے۔
