پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان اور کینیڈا نے مختلف شعبوں بشمول تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سیکیورٹی، ایگری فوڈ اور مینوفیکچرنگ میں دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ بات نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کے درمیان وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے ابتدائی کلمات کے دوران سامنے آئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور کینیڈین وزیر خارجہ کی اہم ملاقات بھی منعقد ہوئی تھی۔ کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ کر رہی ہیں، جو ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ ہے۔ اپنے ریمارکس میں نائب وزیراعظم نے اپنی کینیڈین ہم منصب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دو دہائیوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کینیڈا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، جنہیں وہاں موجود پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد مزید تقویت بخشتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی بات چیت سے گزشتہ سال شروع ہونے والی پیش رفت مزید ٹھوس نتائج کی طرف بڑھے گی۔ کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے کام کرنے کی منتظر ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے تقریباً 80 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں زراعت، ایگری فوڈ سے لے کر مینوفیکچرنگ تک مختلف شعبوں میں مضبوط تعلقات کو یقینی بنانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان اور کینیڈا کے مابین کینولا درآمدی پروٹوکول پر دستخط جیسے اقدامات اہم پیش رفت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا میں تقریباً تین لاکھ پاکستانی نژاد کینیڈین آباد ہیں جو ہمارے مشترکہ کاموں کے حوالے سے پرجوش ہیں۔ اس سے قبل کینیڈین وزیر خارجہ کی وزارت خارجہ آمد پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔ اس سے قبل کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کی آرمی چیف سید عاصم منیر سے اہم ملاقات بھی ہو چکی ہے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
