مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 22°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 419,504 PKR Bitcoin $80,184 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 419,504 PKR Bitcoin $80,184
تازہ ترین

جیمز ویب ٹیلی اسکوپ: 41 نوری سال دور سیارے پر ماحول دریافت

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 7 منٹ
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ: 41 نوری سال دور سیارے پر ماحول دریافت
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ خلائی تحقیق اور فلکیات کی دنیا میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ناسا کے جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (James Webb Space Telescope – JWST) نے زمین سے تقریباً 41 نوری سال کے فاصلے پر واقع انتہائی گرم اور لاوا اگلنے والے سیارے 55 Cancri e کے گرد ایک ثانوی (Secondary) ماحول یا ایٹموسفیئر کے مضبوط شواہد دریافت کیے ہیں۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی انتہائی گرم پتھریلے سپر ارتھ (Super-Earth) کے گرد ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شدید ترین حالات کے باوجود وہاں گیسوں پر مشتمل ماحول موجود ہو سکتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف سیاروں کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ زمین جیسے پتھریلے سیاروں کی تشکیل، ان کے ابتدائی ماحول اور مستقبل میں قابلِ رہائش دنیاؤں کی تلاش کے حوالے سے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر 29 ممالک نے دستخط کر دیے ہیں، اسی طرح جدید ٹیکنالوجی سے لیس جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے بھی خلائی تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔

لاوا سے ڈھکا خوفناک سیارہ

55 Cancri e ایک ایسا سیارہ ہے جسے ماہرین سپر ارتھ قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کا حجم زمین سے تقریباً دو گنا جبکہ کمیت (Mass) تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہے۔ تاہم اس کی سطح اور ماحول زمین سے یکسر مختلف ہیں۔ یہ سیارہ اپنے میزبان ستارے 55 Cancri A کے انتہائی قریب گردش کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا ایک سال صرف 18 زمینی گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ سیارہ ٹائیڈلی لاکڈ (Tidally Locked) ہے، یعنی اس کا ایک رخ ہمیشہ اپنے ستارے کی طرف رہتا ہے جبکہ دوسرا رخ ہمیشہ تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ سورج کی طرف موجود حصے کا درجہ حرارت 2,300 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اتنا شدید ہے کہ وہاں موجود چٹانیں، معدنیات اور دھاتیں پگھل کر لاوے کے وسیع سمندروں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

جیمز ویب نے پرانا نظریہ بدل دیا

اس سے قبل فلکیات کے ماہرین کا خیال تھا کہ اتنے شدید درجہ حرارت اور طاقتور شمسی شعاعوں کی وجہ سے اس سیارے کا ماحول بہت پہلے خلا میں تحلیل ہو چکا ہوگا۔ تاہم جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے جدید MIRI اور NIRCam آلات نے اس تصور کو چیلنج کر دیا۔

تحقیقی ٹیم نے اس وقت مشاہدات کیے جب 55 Cancri e اپنے ستارے کے پیچھے سے گزرا۔ اس دوران ٹیلی اسکوپ نے سیارے سے خارج ہونے والی انفرا ریڈ حرارت کا انتہائی باریک بینی سے تجزیہ کیا۔ حاصل ہونے والے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ سیارے کی سطح کا درجہ حرارت توقع سے کم ہے، جو اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ وہاں موجود گیسوں کا ماحول حرارت کو ایک حصے سے دوسرے حصے تک منتقل کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت بے شمار مواقع کے ساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لا رہی ہے، چینی صدر کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا درست استعمال ہی مستقبل کی بنیاد ہے۔

ماحول کن گیسوں پر مشتمل ہو سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس سیارے کے گرد موجود ماحول غالباً کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) یا کاربن مونو آکسائیڈ (CO) جیسی بھاری گیسوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس ماحول کی مکمل کیمیائی ساخت جاننے کے لیے مزید مشاہدات درکار ہیں، لیکن ابتدائی نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایک مستحکم اور مسلسل تشکیل پانے والا ماحول ہے۔

یہ ماحول برقرار کیسے ہے؟

تحقیق میں شامل سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سیارے کا ابتدائی ماحول نہیں بلکہ ایک ثانوی یا سیکنڈری ایٹموسفیئر ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی ماحول تو اربوں سال پہلے شدید حرارت اور تابکاری کی وجہ سے ختم ہو چکا ہوگا، لیکن سیارے کے اندر موجود پگھلی ہوئی چٹانیں اور لاوے کے سمندر مسلسل گیسیں خارج کر رہے ہیں، جو نئے ماحول کی تشکیل کا باعث بنتی ہیں۔

اسی مسلسل آتش فشانی عمل کی وجہ سے ماحول بار بار بنتا رہتا ہے، جس سے یہ انتہائی سخت حالات کے باوجود اپنی موجودگی برقرار رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا عمل زمین سمیت کئی پتھریلے سیاروں کی ابتدائی تاریخ کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

سائنسی تحقیق میں نئی راہیں

فلکیات کے ماہرین کے مطابق اگرچہ 55 Cancri e پر انسان یا کسی بھی معروف قسم کی زندگی کا وجود تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ دریافت سائنسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ زمین، زہرہ اور مریخ جیسے پتھریلے سیارے اپنی ابتدائی تشکیل کے دوران کس قسم کے ماحول اور آتش فشانی سرگرمیوں سے گزرے ہوں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور جاپان کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور اسٹارٹ اپ تعاون بڑھانے پر اتفاق ہو چکا ہے جو تحقیق کے شعبے میں مثبت پیش رفت ہے۔

تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ مستقبل میں ایسے مزید سیاروں کا مشاہدہ کرے گا، جس سے کائنات میں قابلِ رہائش دنیاؤں کی تلاش، سیاروں کے ماحول کی تشکیل اور نظامِ شمسی سے باہر موجود دنیاؤں کے ارتقا کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ 55 Cancri e پر ماحول کی موجودگی کے شواہد جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی اہم ترین کامیابیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دریافت نہ صرف جدید فلکیات میں ایک اہم سنگِ میل ہے بلکہ آئندہ برسوں میں کائنات کے اسرار کو سمجھنے اور زمین جیسے سیاروں کی تلاش کے لیے نئی تحقیق کا دروازہ بھی کھول سکتی ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں