لاہور ٹیکس بار کا بائیومیٹرک ری ویری فکیشن کی مہلت بڑھانے کا مطالبہ
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلز ٹیکس رولز 2006 کے رول 5(4) کے تحت لازمی سالانہ بائیومیٹرک ری ویری فکیشن کی مقررہ مدت میں 31 اگست 2026 تک توسیع کی جائے۔
ایف بی آر حکام کو ارسال کردہ خط میں مسائل کی نشاندہی
ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز زبیر بلال کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا کہ نادرا کے ای سہولت مراکز پر غیر معمولی رش، تکنیکی خرابیوں اور ایف بی آر کے آئرس سسٹم میں مسائل کے باعث ہزاروں ٹیکس دہندگان مقررہ مدت میں قانونی تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتحال بالخصوص اس وقت پیدا ہوئی جب علاقائی کشیدگی کے بعد غیر ملکی ممالک پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جس کے باعث معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے دباؤ بڑھا ہے۔
ٹیکس دہندگان اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات
لاہور ٹیکس بار کے صدر رانا ثاقب منیر، جنرل سیکرٹری محمد فاروق گجر، نائب صدر میاں عثمان جاوید، جوائنٹ سیکرٹری علی رضا چیمہ اور فنانس سیکرٹری سعد ایوب خان نے کہا کہ موجودہ مشکلات ٹیکس دہندگان کے اختیار سے باہر ہیں، اس لیے انہیں ان مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ خط میں نشاندہی کی گئی کہ جولائی میں بائیومیٹرک ری ویری فکیشن کے ساتھ جون 2026 کے سیلز ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ بھی ہونے کے باعث کاروباری برادری اور ٹیکس پروفیشنلز شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ نادرا اور ایف بی آر کے درمیان ڈیٹا اپ ڈیٹ میں تاخیر بھی ریٹرن فائلنگ کے عمل کو متاثر کر رہی ہے۔
مطالبات اور تکنیکی بہتری کی ضرورت
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ مہلت میں توسیع کے ساتھ ساتھ پرال، نادرا اور متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کو تکنیکی و انتظامی مسائل کے فوری حل کی ہدایات جاری کی جائیں۔ یاد رہے کہ حکومتی سطح پر سعودی سفیر نواف المالکی کی نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات جیسی پیش رفتوں کے تناظر میں ٹیکس اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مزید برآں، جن ٹیکس دہندگان کی بائیومیٹرک تصدیق تکنیکی وجوہات کی بنا پر بروقت مکمل نہ ہو سکے، انہیں کمشنر کی پیشگی اجازت کے بغیر آئرس کے ذریعے ریٹرن جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔
نظام کی شفافیت کے لیے اقدامات
پاکستان میں ٹیکس نظام کی اصلاحات کا سفر جاری ہے، جس میں پی آئی اے کی بحالی کیلئے ایتھوپین ایئرلائنز کے سابق سربراہ تعینات کیے جانے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ٹیکس بار کا یہ مطالبہ اس ضمن میں ایک اہم قدم ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو بلاوجہ کے قانونی جنجال سے بچایا جا سکے۔
