بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر نئے منصوبوں سے آبی تنازع شدت اختیار کر گیا، پاکستان کا سخت ردعمل

سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی جنگ کا سبب بن سکتی ہے، پاکستان کا انتباہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)
پاکستان نے دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے نئے آبی ڈھانچوں اور مجوزہ پانی منتقلی منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے تحت پاکستان کے آبی حقوق میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ یہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر بنانے کی کوششوں کے بعد نئی دہلی اب زمینی حقائق تبدیل کرنے کے لیے مختلف آبی منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے، جن میں دریائے چناب سے بیاس دریا تک پانی منتقل کرنے کے مجوزہ منصوبے کو خاص طور پر تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا
قومی سلامتی کمیٹی (NSC) کے 24 اپریل 2026 کے اعلامیے کے مطابق سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے عالمی بینک کی ضمانت حاصل ہے اور اس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پانی پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کی زندگی، خوراک اور معاشی بقا سے جڑا ہوا مسئلہ ہے اور پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، موڑنے یا کم کرنے کی کسی بھی کوشش کو قومی سلامتی کے خلاف اقدام تصور کیا جائے گا۔
چناب-بیاس لنک ٹنل منصوبہ تنازع کا مرکز
اطلاعات کے مطابق بھارت دریائے چناب سے بیاس دریا تک پانی منتقل کرنے کے لیے تقریباً 2,352 کروڑ بھارتی روپے کی لاگت سے ایک لنک ٹنل تعمیر کرنے پر غور کر رہا ہے۔
پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت چناب، جہلم اور دریائے سندھ مغربی دریا ہیں جو پاکستان کے لیے مختص ہیں، جبکہ ان کے پانی کو دوسرے دریائی نظام میں منتقل کرنا معاہدے کی روح اور قانونی تقاضوں کے منافی سمجھا جا سکتا ہے۔
بھارتی سیاسی شخصیات کے بعض بیانات نے بھی اس منصوبے کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔ بعض رہنماؤں نے کھلے عام کہا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد پاکستان جانے والے پانی کو کم کرنا ہے، جس پر پاکستان نے شدید اعتراض اٹھایا ہے۔
پاکستانی معیشت کے لیے پانی کی اہمیت
ماہرین کے مطابق پاکستان کی 90 فیصد سے زائد زرعی پیداوار کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے۔ زراعت نہ صرف قومی معیشت کا ایک بڑا شعبہ ہے بلکہ کروڑوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔
پانی کی دستیابی میں کمی براہ راست گندم، چاول، کپاس اور دیگر فصلوں کی پیداوار، خوراک کی قیمتوں، صنعتی سرگرمیوں اور مجموعی اقتصادی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسی وجہ سے پاکستان میں آبی تحفظ کو قومی سلامتی کے اہم ترین ستونوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا جوابی حکمت عملی پر غور
حکومتی اور آبی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک ساتھ کئی محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔ ان میں نئے ڈیموں کی تعمیر، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، نہری نظام کی بہتری اور بین الاقوامی قانونی فورمز پر اپنے مؤقف کا بھرپور دفاع شامل ہے۔
اس ضمن میں واپڈا کے تحت چنیوٹ، وزیرآباد، مڈھ رانجھا اور شاہ جیوانہ کے قریب مجوزہ ذخیرہ آب منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت کی سفارش کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ:
- دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل میں تیزی
- مہمند ڈیم منصوبے کی رفتار بڑھانا
- دودھنیال ملٹی پرپز پراجیکٹ پر پیش رفت
- مرالہ راوی لنک کینال کی گنجائش میں اضافہ
- منگلا تا مرالہ نئی لنک کینال کی تعمیر
- نہروں کی لائننگ کے ذریعے پانی کے ضیاع میں کمی
- زیرزمین پانی کے بہتر انتظامات
- خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں کا فروغ
جیسے اقدامات کو قومی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔
علاقائی امن کے لیے سفارتی حل ضروری
دفاعی اور آبی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی جنوبی ایشیا کے سب سے حساس معاملات میں سے ایک ہے اور دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی پورے خطے کو متاثر کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سندھ طاس معاہدہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کے باوجود برقرار رہا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور مذاکرات کو ترجیح دینا خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
نتیجہ
پاکستان کا مؤقف ہے کہ دریائے چناب سمیت مغربی دریاؤں پر اس کے آبی حقوق بین الاقوامی معاہدوں کے تحت محفوظ ہیں اور ان حقوق میں کسی بھی قسم کی مداخلت قابل قبول نہیں ہوگی۔ دوسری جانب بھارت آبی وسائل کے بہتر استعمال اور نئے منصوبوں کو اپنا حق قرار دیتا ہے۔ ایسے میں ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پانی کے مسئلے کو سیاسی یا تزویراتی ہتھیار بنانے کے بجائے بین الاقوامی قوانین اور باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن، خوراک اور معاشی استحکام برقرار رہ سکے۔
