یو اے ای میں سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر 3500 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، قومی اسمبلی کو آگاہی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ایران امریکا تنازع کے دوران سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر متحدہ عرب امارات سے تقریباً 3500 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔
وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ حکومت متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کر رہی ہے۔
رکن قومی اسمبلی ثمینہ خالد گھرکی کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اسپین، پرتگال اور برطانیہ میں کوئی پاکستانی قیدی سزائے موت کا منتظر نہیں کیونکہ وہاں سزائے موت ختم کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں پاکستانی مشنز کے خصوصی شعبے قید پاکستانیوں کی مدد کرتے ہیں، جیلوں کے دورے کرتے ہیں، شکایات سنتے ہیں اور جن افراد کے پاس وکیل کرنے کی استطاعت نہیں انہیں قانونی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
وزیر پارلیمانی امور نے بتایا کہ برطانیہ کے ساتھ قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے کے تحت 2024 اور 2025 کے دوران 9 پاکستانی قیدی وطن واپس لائے گئے۔
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں پھنسے پاکستانیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ذاتی طور پر معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔
غیر قانونی نقل مکانی سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس مسئلے نے سنگین چیلنجز پیدا کیے ہیں، خصوصاً لیبیا اور بعض خلیجی ممالک کے راستے یورپ جانے کی کوششوں میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایات پر غیر قانونی نقل مکانی میں سہولت کاری میں ملوث حکام کے خلاف کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں ایف آئی اے کے 100 اہلکار برطرف کیے گئے۔
وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے کہا کہ یو اے ای سے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی تعداد وہاں موجود مجموعی پاکستانی کمیونٹی کے مقابلے میں کم ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مبینہ طور پر قتل ہونے والے مردان کے پاکستانی شہری کے معاملے پر بھی ایوان کو آگاہ کیا اور کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کی مدد کر رہی ہے۔
