مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 422,231 PKR Bitcoin $81,237 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 422,231 PKR Bitcoin $81,237
تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا تحفظ خوراک عالمی دن پر پائیدار غذائی مستقبل کا عزم

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 4 منٹ
pm pakistan
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (دوست نیوز رپورٹ) — وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج دنیا بھر میں منائے جانے والے عالمی یوم تحفظ خوراک کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے محفوظ، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور خود کفیل غذائی مستقبل کے لیے خوراک اور قدرتی وسائل کی قدر و تحفظ کے عہد کی تجدید پر زور دیا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کی سرپرستی میں عالمی ادارہ صحت (WHO) اور خوراک و زراعت کی تنظیم (FAO) کی مشترکہ قیادت میں ہر سال 7 جون کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد خوراک سے متعلق بیماریوں کی روک تھام اور عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

خبر کی تفصیل

وزیراعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان میں زراعت کو جامع تحقیق کی کمی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، پانی کی قلت، بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کے بدلتے رجحانات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی یوم تحفظ خوراک پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر بیماریوں اور آلودگی کے خطرات سے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کے مشترکہ ہدف کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ اس سال کا موضوع "بوجھ سے حل تک: ہر جگہ محفوظ خوراک” ہے جو عالمی سطح پر خوراک کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق، وزیراعظم نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے شائع کردہ جامع رپورٹ کے ہوشربا انکشافات کا بھی ذکر کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں سالانہ 866 ملین افراد آلودہ خوراک کے باعث بیمار ہوتے ہیں اور تقریباً 1.5 ملین افراد ہر سال جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پیداواری صلاحیت میں کمی، طبی اخراجات، معاشی نقصانات، سماجی مسائل اور سیاحت و تجارت کی تنزلی بھی غیر محفوظ خوراک کے براہ راست نتائج ہیں۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر محفوظ خوراک نہ صرف صحت عامہ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ زرخیز زمین، محنتی کسان اور زرعی صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود، پاکستان کو مذکورہ بالا چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور متقاضی حکمت عملی پر کام جاری ہے۔ وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، مضبوط غذائی تحفظ، زرعی پیداوار میں اضافے اور موسمیاتی اثرات کی کمی کے لیے زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی جامع اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں معیاری بیجوں کی فراہمی، زرعی خام اجزاء کی بہتر دستیابی، زرعی مشینری کا جدید استعمال، ویلیو چینز کی مضبوطی، ذخیرہ کاری اور منڈیوں کے نظام میں بہتری شامل ہیں۔ وزیراعظم نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، کسانوں، جامعات، تحقیقی اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ، ترقیاتی شراکت داروں اور تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ، مضبوط اور صحت افزا غذائی نظام کی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے حاصل شدہ علم اور تجربات سے حکومتی سطح پر استفادہ اور صارفین کی سطح پر خوراک کے صفائی، معیاری انتظام اور پکانے کے بنیادی اصولوں پر عملدرآمد سے غذائی خدشات سے موثر انداز میں نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آج ہم خوراک اور قدرتی وسائل کی قدر اور تحفظ کا تجدید عہد کریں تاکہ پاکستان کو ایک محفوظ، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور خود کفیل غذائی مستقبل میسر آ سکے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں