وزیراعظم شہباز شریف کا تحفظ خوراک عالمی دن پر پائیدار غذائی مستقبل کا عزم
اسلام آباد (دوست نیوز رپورٹ) — وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج دنیا بھر میں منائے جانے والے عالمی یوم تحفظ خوراک کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے محفوظ، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور خود کفیل غذائی مستقبل کے لیے خوراک اور قدرتی وسائل کی قدر و تحفظ کے عہد کی تجدید پر زور دیا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کی سرپرستی میں عالمی ادارہ صحت (WHO) اور خوراک و زراعت کی تنظیم (FAO) کی مشترکہ قیادت میں ہر سال 7 جون کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد خوراک سے متعلق بیماریوں کی روک تھام اور عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
خبر کی تفصیل
وزیراعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان میں زراعت کو جامع تحقیق کی کمی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، پانی کی قلت، بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کے بدلتے رجحانات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی یوم تحفظ خوراک پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر بیماریوں اور آلودگی کے خطرات سے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کے مشترکہ ہدف کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ اس سال کا موضوع "بوجھ سے حل تک: ہر جگہ محفوظ خوراک” ہے جو عالمی سطح پر خوراک کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق، وزیراعظم نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے شائع کردہ جامع رپورٹ کے ہوشربا انکشافات کا بھی ذکر کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں سالانہ 866 ملین افراد آلودہ خوراک کے باعث بیمار ہوتے ہیں اور تقریباً 1.5 ملین افراد ہر سال جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پیداواری صلاحیت میں کمی، طبی اخراجات، معاشی نقصانات، سماجی مسائل اور سیاحت و تجارت کی تنزلی بھی غیر محفوظ خوراک کے براہ راست نتائج ہیں۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر محفوظ خوراک نہ صرف صحت عامہ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ زرخیز زمین، محنتی کسان اور زرعی صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود، پاکستان کو مذکورہ بالا چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور متقاضی حکمت عملی پر کام جاری ہے۔ وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، مضبوط غذائی تحفظ، زرعی پیداوار میں اضافے اور موسمیاتی اثرات کی کمی کے لیے زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی جامع اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں معیاری بیجوں کی فراہمی، زرعی خام اجزاء کی بہتر دستیابی، زرعی مشینری کا جدید استعمال، ویلیو چینز کی مضبوطی، ذخیرہ کاری اور منڈیوں کے نظام میں بہتری شامل ہیں۔ وزیراعظم نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، کسانوں، جامعات، تحقیقی اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ، ترقیاتی شراکت داروں اور تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ، مضبوط اور صحت افزا غذائی نظام کی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے حاصل شدہ علم اور تجربات سے حکومتی سطح پر استفادہ اور صارفین کی سطح پر خوراک کے صفائی، معیاری انتظام اور پکانے کے بنیادی اصولوں پر عملدرآمد سے غذائی خدشات سے موثر انداز میں نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آج ہم خوراک اور قدرتی وسائل کی قدر اور تحفظ کا تجدید عہد کریں تاکہ پاکستان کو ایک محفوظ، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور خود کفیل غذائی مستقبل میسر آ سکے۔
