مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 24°C
بدھ، 4 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.53 EUR/PKR 309.51 GBP/PKR 370.97 سونا/تولہ (عالمی) 419,333 PKR Bitcoin $78,565 USD/PKR 276.53 EUR/PKR 309.51 GBP/PKR 370.97 سونا/تولہ (عالمی) 419,333 PKR Bitcoin $78,565
بزنس

متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الضابی سے ملاقات کر رہے ہیں۔
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر علی حسام اصغر نے متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہونے کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا ہے۔ پاکستان میں تعینات متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الضابی سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان براہ راست روابط، تجارتی وفود کے تبادلے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں سے باہمی اقتصادی تعاون کو نئی وسعت دی جا سکتی ہے۔

اہم نکات

  • پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانے کے لیے براہ راست بزنس ٹو بزنس روابط ناگزیر ہیں۔
  • علی حسام اصغر نے زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور معدنیات کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش شعبے قرار دیا ہے۔
  • متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الضابی نے دونوں ممالک کے تاجر برادری کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات: اقتصادی تعاون کی نئی راہیں

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو بنیاد بناتے ہوئے علی حسام اصغر نے کہا کہ پاکستان اپنی بڑی کنزیومر مارکیٹ، صنعتی صلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت کے سبب سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری کی ترقی اور معیاری خوراک کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کاروباری شخصیات کے براہ راست رابطے نئی منڈیوں تک رسائی میں مددگار ثابت ہوں گے۔

مشترکہ تجارتی فورمز اور مستقبل کا لائحہ عمل

صدر لاہور چیمبر نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کے ایوانِ تجارت کے درمیان مشترکہ تجارتی نمائشوں اور سرمایہ کاری کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے۔ یہ پلیٹ فارمز دونوں ممالک کی کمپنیوں کو طویل مدتی تجارتی شراکت داری قائم کرنے کے مواقع فراہم کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے جامعات میں اے آئی کے استعمال کی طرح جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کے لیے بھی تعاون کا عندیہ دیا۔

سفیر سالم محمد الضابی نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ براہ راست کاروباری رابطے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کریں گے بلکہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے باہمی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی کاروباری شخصیات کے وفود بھی مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

اہم سوالات و جوابات

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کے اہم شعبے کون سے ہیں؟

صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر کے مطابق زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات، لاجسٹکس، معدنیات اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ تعاون کے اہم شعبے ہیں۔

سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کون سے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں؟

باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط، تجارتی وفود کے تبادلے، اور مشترکہ تجارتی نمائشوں اور کانفرنسوں کے انعقاد کی تجویز دی گئی ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں