خواتین کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرکے ملکی معیشت کی ترقی تیز کی جا سکتی ہے، شاہد عمران
خواتین کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرکے ملکی معیشت کی ترقی تیز کی جا سکتی ہے، شاہد عمران
لاہور۔ 25 اکتوبر: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل کمیٹی برائے فوڈ کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ خواتین پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً 49 فیصد ہیں اور انہیں محفوظ، سازگار اور معاون ماحول فراہم کرکے ملکی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اتوار کو خواتین کاروباری شخصیات کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے، جس کی قیادت آمنہ عبداللہ آرائیں کر رہی تھیں، شاہد عمران نے کہا کہ خواتین کی نقل و حرکت میں سہولت کے لیے گلابی بسوں اور اسکوٹر قرضوں جیسی حالیہ حکومتی کوششیں خوش آئند ہیں، تاہم یہ اقدامات ضرورت کے مقابلے میں ناکافی اور محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم ضرورت معاشرتی سوچ اور رویوں میں تبدیلی لانا ہے۔ عوامی مقامات پر خواتین اور بچیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف ملک گیر آگاہی مہم کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جانا چاہیے تاکہ خواتین بلاخوف و خطر تعلیم اور روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ شاہد عمران نے کہا کہ خواتین کی گھر سے باہر کام کرنے کی محدود صلاحیت کے پیچھے کئی ساختی اور معاشرتی رکاوٹیں موجود ہیں، جس کا نقصان نہ صرف خواتین بلکہ ملکی معیشت اور پورے معاشرے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ 15 برس سے پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کی شرح تقریباً 22 فیصد پر جمود کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب خواتین معاشی طور پر خودمختار ہوتی ہیں تو وہ اپنی آمدنی کا زیادہ مؤثر استعمال کرتی ہیں، جس کے براہ راست مثبت اثرات بچوں کی تعلیم، صحت اور مجموعی معیار زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ خواتین کی معاشی شمولیت پائیدار ترقی، غربت کے خاتمے اور قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، فوڈ پراسیسنگ، صنعت، تعلیم، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کاروبار سمیت مختلف شعبوں میں خواتین میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں سے پیداواری عمل بہتر بنانے، جدت کو فروغ دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شاہد عمران نے خواتین کے لیے ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں، فنی تربیت، آسان مالی سہولیات اور کاروباری مواقع تک رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے سرکاری اور نجی شعبوں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانا خوشحال، مسابقتی اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان کی تعمیر کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
