نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ ٹونی ڈیوس مستعفی، نامناسب ذاتی تعلق ظاہر نہ کرنے کا اعتراف
نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ ٹونی ڈیوس مستعفی، نامناسب ذاتی تعلق ظاہر نہ کرنے کا اعتراف
ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی دفاعی افواج کے سربراہ ایئر مارشل ٹونی ڈیوس نے اپنے ماضی کے ایک نامناسب ذاتی تعلق کو بروقت ظاہر نہ کرنے کے معاملے پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ فوجی کمان کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے انہیں اس معاملے سے متعلق معلومات ظاہر کرنی چاہیے تھیں، تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر دفاع پال گولڈ اسمتھ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ بنیادی طور پر دیانت داری اور ادارہ جاتی اقدار سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق دفاعی افواج کے سربراہ کے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے اعتماد اور شفافیت ناگزیر ہیں، اس لیے ٹونی ڈیوس کا عہدے سے الگ ہونا ضروری ہو گیا۔
ٹونی ڈیوس نے اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ان کا طرزِ عمل نیوزی لینڈ کی دفاعی افواج کی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے اپنے فوجی کیریئر کے دوران 42 سال خدمات انجام دیں۔
معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے اسے نیوزی لینڈ کے انسپکٹر جنرل آف ڈیفنس کے سپرد کیا گیا ہے، جو اس حوالے سے حقائق اور متعلقہ امور کا جائزہ لیں گے۔
وزیر دفاع پال گولڈ اسمتھ نے ٹونی ڈیوس کی طویل فوجی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے حالات دفاعی افواج کے اہلکاروں کے لیے مایوس کن ہیں۔
ٹونی ڈیوس کی جگہ ریئر ایڈمرل میٹ ولیمز عبوری طور پر نیوزی لینڈ کی دفاعی افواج کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
یہ معاملہ نیوزی لینڈ کے دفاعی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کے لیے اخلاقی ضابطوں، شفافیت اور جواب دہی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
