فوجی تصادم کی صورت میں مکہ دفاعی اتحاد حرکت میں آئے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
فوجی تصادم کی صورت میں مکہ دفاعی اتحاد حرکت میں آئے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی، 19 اکتوبر: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کو مزید پھیلانا کسی کے مفاد میں نہیں، تمام فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ اگر مذاکرات کے ذریعے نتیجہ حاصل نہ ہوا اور معاملہ فوجی تصادم تک پہنچا تو مکہ دفاعی اتحاد کا اجتماعی دفاعی نظام حرکت میں آئے گا۔
عرب نشریاتی ادارے انڈیپنڈنٹ عربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدس مقامات کی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے جس معاونت کی ضرورت ہوگی، پاکستان وہ فراہم کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب پر حملوں کے معاملے پر پاکستان میں عوام سے لے کر سیاسی اور عسکری قیادت تک شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کوئی بھی ملک سعودی عرب یا مقدس مقامات کو دھمکی دینے یا ان کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کیوں کرے گا۔
مکہ دفاعی اتحاد کی نوعیت واضح کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یہ معاہدہ جارحانہ عزائم نہیں رکھتا بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس کا مقصد اجتماعی دفاع اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اجتماعی دفاع کے ذریعے خطرات کو روکنے کی کوشش کامیاب نہ ہوئی تو تینوں ممالک دستیاب ذرائع کے ذریعے دفاعی صلاحیت کو دوبارہ مؤثر بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں، بشمول ایران، کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ان رابطوں کا مقصد تحمل کو فروغ دینا، کشیدگی میں کمی لانا اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔ ان کے مطابق حوثیوں یا دیگر محاذوں تک جنگ کو پھیلانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے صرف خطے میں انتشار پیدا کرنے والے عناصر کو فائدہ پہنچے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون نے مختصر عرصے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ یہ اتحاد تینوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ انہوں نے معاہدے پر تنقید کرنے والوں کے حوالے سے کہا کہ اس پر اعتراض کرنے والے حلقے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم کسی بھی معاہدے کی اہمیت اس کے عملی نتائج سے سامنے آتی ہے۔
انہوں نے مسلم دنیا کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کے بجائے اتحاد اور تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں کہ تنازع مزید وسیع ہو یا اس کی شدت میں اضافہ کیا جائے۔ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے مذاکرات اور باہمی تعاون ناگزیر ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد کے تحت فراہم کی جانے والی معاونت کی نوعیت اور مقدار کی تفصیلات عام نہیں کی جاتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دفاعی اقدامات کے عملی طریقہ کار اور فوجی تعیناتی سے متعلق تفصیلات آپریشنل سکیورٹی کا معاملہ ہیں۔
حوالہ: انڈیپنڈنٹ عربیہ کو دیا گیا انٹرویو، 18 اکتوبر 2026۔
