مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
پیر، 2 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.73 EUR/PKR 308.83 GBP/PKR 370.51 سونا/تولہ (عالمی) 405,978 PKR Bitcoin $78,394 USD/PKR 276.73 EUR/PKR 308.83 GBP/PKR 370.51 سونا/تولہ (عالمی) 405,978 PKR Bitcoin $78,394
قومی

ایران امریکہ جنگ: 7 خلیجی ممالک کی اہم تنصیبات کو شدید نقصان، حکومتیں حقائق سامنے لانے کے بجائے چھپانے میں مصروف: رائٹرز کی تہلکہ خیز رپورٹ

📅 ✍️ ⏱ 6 منٹ
ایران امریکہ جنگ: 7 خلیجی ممالک کی اہم تنصیبات کو شدید نقصان، حکومتیں حقائق سامنے لانے کے بجائے چھپانے میں مصروف: رائٹرز کی تہلکہ خیز رپورٹ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ایران امریکہ جنگ: 7 خلیجی ممالک کی اہم تنصیبات کو شدید نقصان، حکومتیں حقائق سامنے لانے کے بجائے چھپانے میں مصروف: رائٹرز کی تہلکہ خیز رپورٹ

اسلام آباد، 18 اکتوبر 2026: عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تفصیلی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوران خلیجی خطے کے سات ممالک میں تیل و گیس کی تنصیبات، بندرگاہوں، بجلی گھروں، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ متاثرہ حکومتیں نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے لانے کے بجائے اس کی نوعیت محدود انداز میں بیان کرتی رہیں۔ تحقیق کے مطابق 28 فروری سے اب تک ان ممالک میں کم از کم 84 مقامات پر ڈرون اور میزائلوں کے 135 حملے ریکارڈ کیے گئے۔

رائٹرز نے یہ تحقیق 36 افراد کے انٹرویوز، تصاویر، ویڈیوز، ریڈار اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے مرتب کی۔ ادارے کے مطابق اشاعت سے قبل تحقیق کے نتائج متعلقہ حکومتوں اور کمپنیوں کے سامنے بھی رکھے گئے۔ تحقیق میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عمان اور عراق میں اہم تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور اس کے توانائی کی عالمی فراہمی پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کم از کم 19 مرتبہ حملوں کا نشانہ بنی۔ فجیرہ آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر تیل کی ترسیل کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ حملوں سے اس بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جس کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھی جا سکتی تھی۔ اس صورت حال نے خطے میں توانائی کی برآمدات کے متبادل راستوں کی سلامتی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

قطر کے راس لفان صنعتی مرکز میں مائع قدرتی گیس تیار کرنے والے دو اہم یونٹس کو نقصان پہنچا۔ رائٹرز کے مطابق قطر انرجی کے سربراہ سعد الکعبی نے ان یونٹس کی مرمت میں تین سے پانچ سال لگنے کا تخمینہ دیا ہے۔ راس لفان عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس کی پیداوار اور برآمد کا ایک اہم مرکز ہے، اس لیے یہاں ہونے والے نقصان کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔

سعودی عرب میں جازان آئل ریفائنری پر چار مرتبہ حملے کیے گئے، جن کے بعد ریفائنری کی پیداوار صفر تک گر گئی۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی نو بڑی ریفائنریوں میں سے پانچ متاثر ہوئیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے پہلے سعودی عرب کی تیل کی پیداوار روزانہ ایک کروڑ بیرل سے زیادہ تھی، لیکن جنگ کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران بیشتر وقت پیداوار 70 لاکھ بیرل یومیہ سے کم رہی۔

کویت میں توانائی اور بنیادی سہولیات کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات بھی تحقیق میں شامل ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اپریل میں کویت نے خام تیل کا ایک بیرل بھی برآمد نہیں کیا، جو 1991 کے بعد پہلی مرتبہ ہوا۔ ملک کے بجلی اور پانی صاف کرنے والے آٹھ پلانٹس میں سے چار کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کویت کے ہوائی اڈے کو آٹھ مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔

متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ایک سب اسٹیشن پر حملے کے بعد ایک ری ایکٹر کو ایمرجنسی ڈیزل جنریٹروں پر منتقل کرنا پڑا۔ یہ واقعہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور جوہری تنصیبات کے اطراف سلامتی کے انتظامات سے متعلق خدشات کو نمایاں کرتا ہے۔ تاہم اس واقعے سے تابکاری کے اخراج یا جوہری حادثے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتوں کے بیانات پر سوالات

رائٹرز کی تحقیق کا اہم پہلو یہ ہے کہ خلیجی حکومتوں کے کم از کم 34 بیانات میں مختلف مقامات پر نقصان کی وجہ مار گرائے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا ملبہ گرنے کو قرار دیا گیا۔ تحقیق میں شامل ماہرین نے بعض تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اہم صنعتی آلات کو پہنچنے والا نقصان محض اتفاقی ملبہ گرنے سے ہونے کے امکان پر سوالات اٹھاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی ریاستوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات عام کرنے میں بھی احتیاط برتی گئی۔ اس صورت حال کے باعث حملوں کے حقیقی معاشی اثرات، متاثرہ تنصیبات کی بحالی کے اخراجات اور توانائی کی فراہمی پر طویل مدتی اثرات کا مکمل اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے متبادل راستے بھی متاثر

تحقیق میں فجیرہ بندرگاہ اور سعودی عرب کی مشرق مغرب پائپ لائن کو ان اہم راستوں میں شمار کیا گیا ہے جن کے ذریعے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ ان راستوں کو پہنچنے والے نقصان نے خطے کی توانائی کی برآمدات کے متبادل انتظامات کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔

رائٹرز کے مطابق جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ رپورٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت مارچ سے مئی کے دوران تقریباً 120 ڈالر فی بیرل رہنے کا ذکر کیا گیا، جبکہ 14 اکتوبر کی اختتامی قیمت 106 ڈالر فی بیرل درج کی گئی۔

رائٹرز کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید فضائی دفاعی نظاموں کے باوجود توانائی کی اہم تنصیبات کو حملوں سے مکمل طور پر محفوظ رکھنا مشکل ثابت ہوا۔ رپورٹ نے اس امر کو بھی نمایاں کیا ہے کہ جنگ کے اثرات صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہے بلکہ تیل و گیس کی پیداوار، برآمدات، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات اور عالمی توانائی کی منڈیوں تک پھیل گئے۔

ماخذ: رائٹرز کی خصوصی تحقیق، 15 اکتوبر 2026۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں