مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
اتوار، 1 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.75 EUR/PKR 309.02 GBP/PKR 370.50 سونا/تولہ (عالمی) 402,290 PKR Bitcoin $78,036 USD/PKR 276.75 EUR/PKR 309.02 GBP/PKR 370.50 سونا/تولہ (عالمی) 402,290 PKR Bitcoin $78,036
قومی

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا مقصد اپوزیشن حکومت گرانا اور وسائل پر قبضہ ہے، مولانا فضل الرحمٰن

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا مقصد اپوزیشن حکومت گرانا اور وسائل پر قبضہ ہے، مولانا فضل الرحمٰن
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا مقصد اپوزیشن حکومت گرانا اور وسائل پر قبضہ ہے، مولانا فضل الرحمٰن

ملتان: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بدامنی کا خاتمہ نہیں بلکہ اپوزیشن کی حکومت کو ہٹانا اور صوبے کے وسائل پر وفاق کا اختیار بڑھانا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے ملتان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک وفاق ہے، کنفیڈریشن نہیں، جہاں صوبوں کو اپنے وسائل اور قانون سازی کے معاملات میں آئینی خودمختاری حاصل ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں صوبوں کے اختیارات پر شب خون مارا گیا۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوریت سے متعلق دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1973 میں بلوچستان حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا، جبکہ صوبہ سرحد میں بھی گورنر کی تبدیلی کے بعد اس وقت کے وزیراعلیٰ مولانا مفتی محمود نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف صوبوں میں گورنر راج کے اقدامات کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور صدر آصف علی زرداری کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے معاملے پر ان کی جماعت کا مؤقف یہ تھا کہ قبائلی عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ ان کے مطابق انضمام کے بعد قبائلی علاقوں کے معدنی ذخائر اور وسائل بھی صوبے کا حصہ بن گئے، لیکن موجودہ اقدامات کے ذریعے ان وسائل کو دوبارہ وفاق کے تابع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا جواز بدامنی ہے تو پھر ان اقدامات کا دائرہ صرف سابق فاٹا اور چند اضلاع تک کیوں محدود رکھا گیا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں اور قبائلی علاقوں میں بدامنی کا حوالہ دیا جا رہا ہے، جبکہ کرم اور اورکزئی سمیت دیگر متاثرہ علاقوں کو اس دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ نے بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بدامنی ہی گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بنیاد ہے تو بلوچستان میں بھی ایسے اقدامات پر غور ہونا چاہیے۔ ان کے بقول وہاں کی حکومت وفاق کے قریب ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت ہونے کی وجہ سے مختلف طرز عمل اختیار کیا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ آئینی اصولوں اور صوبائی خودمختاری کا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں کیے گئے اقدامات سے صوبائی وسائل اور اختیارات متاثر ہوں گے۔

انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں اور نہ ہی عوام حکمرانوں کے تابع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر جمہوری اور جابرانہ اقدامات کے خلاف مزاحمت ہونی چاہیے اور اس معاملے کو صرف سیاسی جماعتوں کے اختلاف کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

ماخذ: مولانا فضل الرحمٰن کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کردہ خطاب

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں