خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پہلے ہی نافذ ہوجانی چاہیے تھی، نواز شریف
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پہلے ہی نافذ ہوجانی چاہیے تھی، نواز شریف
*لندن: سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوچکی تھی اور حالات قابو سے باہر ہورہے تھے، اس لیے صوبے میں ایمرجنسی پہلے ہی نافذ ہوجانی چاہیے تھی۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گزشتہ 13 سالہ حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس دوران خیبر پختونخوا کو نقصان پہنچایا گیا۔*
لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حالات اس نہج پر پہنچ رہے تھے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے بقول صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اس اقدام کی متقاضی تھی۔
نواز شریف نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے طرزِ حکمرانی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں یہ قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ وزیراعلیٰ سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت پر حملہ کرے۔ انہوں نے سوال کیا کہ صوبائی وسائل کو اسلام آباد اور دوسرے صوبوں کے خلاف استعمال کرنا کہاں کا طریقہ ہے؟
مسلم لیگ (ن) کے صدر نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے گزشتہ 13 برس کے دوران خیبر پختونخوا کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام کو ایسی حکمرانی کے نتائج بھگتنا پڑے اور اب وہ تحریک انصاف کی حکومت سے آزاد ہوگئے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں عام آدمی کی بہتری کے لیے کوششیں کررہی ہیں اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہے۔
نواز شریف کے اس بیان میں خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال، صوبائی حکومت کے اختیارات اور وسائل کے استعمال، وفاق اور صوبوں کے تعلقات اور تحریک انصاف کی حکمرانی پر مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مؤقف کی عکاسی ہوتی ہے۔
