ایران حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور معاونت فراہم کر رہا ہے، سعودی وزارت خارجہ کے ڈپٹی وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر رائد کی ورچوئل پریس بریفنگ
*ایران حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور معاونت فراہم کر رہا ہے، سعودی وزارت خارجہ کے ڈپٹی وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر رائد کی ورچوئل پریس بریفنگ*
ریاض: سعودی وزارت خارجہ کے ڈپٹی وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر رائد کرملی نے الزام لگایا ہے کہ ایران یمن کے حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور دیگر معاونت فراہم کر رہا ہے اور سعودی عرب کے خلاف ان کے حملوں میں اضافے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران وسیع تر علاقائی تنازع کے حل کے لیے ضروری رعایتیں دینے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ڈاکٹر رائد کرملی نے 15 اکتوبر کو صحافیوں سے ورچوئل بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے ایک ہفتے سے زائد عرصے کے دوران سعودی عرب کے اہم مقامات، جن میں ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ، سعودی تیل کمپنی آرامکو کا ہیڈکوارٹر اور دیگر فضائی، تیل اور فوجی تنصیبات شامل ہیں، کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں غیر ملکی شہریوں سمیت کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے۔
ڈاکٹر رائد کرملی کے مطابق، سعودی عرب نے جولائی میں حوثیوں کو عمان میں ملاقات کی دعوت دی تھی تاکہ اختلافات کے حل اور کشیدگی میں کمی کے لیے بات چیت کی جا سکے، تاہم حوثیوں نے یہ دعوت قبول نہیں کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے چند روز بعد حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے قریب ایک اہم علاقے پر قبضہ کر لیا۔ ان کے بقول، رواں ماہ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اس علاقے کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بڑی فوجی کارروائی شروع کی۔
سعودی عہدیدار نے بتایا کہ ریاض حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے اور عمان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں اور حالیہ حملوں کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان کم از کم ایک مرتبہ ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔
ڈاکٹر رائد کرملی نے ایران کے ساتھ وسیع تر تنازع کے خاتمے کے لیے قطر اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی۔ ان کے مطابق، ثالث دو اہم معاملات پر پیش رفت کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے بدلے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا ممکنہ انتظام، اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے طریقۂ کار اور دائرۂ کار سے متعلق واضح یقین دہانیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے نئی تجاویز پیش کرنے میں تاخیر ہوتی ہے اور سعودی عرب کے نزدیک یہ تجاویز بھی ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق، عارضی انتظامات پر بار بار بات چیت کے باوجود فریقین اب تک ایسے حل پر متفق نہیں ہو سکے جو تنازع کے پُرامن خاتمے کی راہ ہموار کر سکے۔
سعودی عہدیدار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین اور روس کے بعض عناصر ایران اور حوثیوں کو ٹیکنالوجی یا انٹیلی جنس سے متعلق معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس حوالے سے تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اس معاملے پر دونوں ممالک سے رابطے میں رہتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ معاونت کے بارے میں مزید تفصیلات بھی فراہم نہیں کیں۔
