مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 9 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.02 EUR/PKR 310.47 GBP/PKR 366.18 سونا/تولہ 435,711 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,633 USD/PKR 277.02 EUR/PKR 310.47 GBP/PKR 366.18 سونا/تولہ 435,711 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,633
بزنس

اسلامی ممالک کے مابین معاشی انضمام اور تجارتی تعلقات میں بہتری

📅 جمعہ، 09 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
اسلامی ممالک کے مابین معاشی انضمام اور تجارتی تعلقات میں بہتری
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی نائب صدر قرۃ العین نے اسلامی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، جوائنٹ وینچرز، سیاحت اور کاروباری روابط کو بڑھانے کے ذریعے مضبوط معاشی انضمام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 57 مسلم ممالک کی مشترکہ معاشی صلاحیت روزگار، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔

ایف پی سی سی آئی اسلامک اکانومی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کو روایتی دوطرفہ تجارت سے آگے بڑھ کر بزنس ٹو بزنس روابط، مشترکہ منصوبوں اور تکنیکی تبادلے پر مبنی ایک مربوط معاشی شراکت داری قائم کرنی چاہیے۔

سمٹ کا موضوع ”کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لیے دوطرفہ اور کثیر جہتی تعاون کے ذریعے اسلامی معاشی انضمام کا فروغ“ تھا، جس میں سفارت کاروں، کاروباری رہنماؤں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بلاول بھٹو زرداری اور رانا ثناء اللہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے حکومتی ارکان مقرر ہوئے ہیں، جبکہ حکومتی حلقوں کی جانب سے ایسے معاشی فورمز کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

حکومت کا بھرپور تعاون

تقریب کے مہمان خصوصی اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے چیف ایگزیکٹو فیض احمد نے کہا کہ حکومت مسلم ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مضبوط بنانے کی ہر کوشش کی مکمل حمایت کرے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2024 میں او آئی سی رکن ممالک کے درمیان تجارت تقریباً 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہدف 25 فیصد تک پہنچنا ہے۔

حلال مصنوعات اور برآمدی مواقع

ایم این اے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ پاکستان کے پاس حلال خوراک، گوشت، فارماسیوٹیکل اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات مسلم مارکیٹوں میں برآمد کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی تمام وفاقی وزارتوں کو ڈیجیٹلائزیشن مکمل کرنے کی ہدایت کے تناظر میں ہمیں برآمدی شعبوں میں بین الاقوامی معیار اور سرٹیفیکیشن کو بہتر بنانا ہوگا۔

مشترکہ حکمت عملی اور مالیاتی تعاون

اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی سی سی ڈی) کے سیکرٹری جنرل شیخ یوسف حسن خلاوی اور وائس پریذیڈنٹ احمد الوکیل نے اسلامی مالیاتی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کے مطابق مالیاتی آلات تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آئی بی اے کی پروفیسر ڈاکٹر ارم صبا نے جدید اسلامی معاشی ماحولیاتی نظام کے لیے تحقیق اور انسانی سرمائے کو مستحکم کرنے پر زور دیا۔

سفارتی سطح پر اتفاق رائے

او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر فواد شیر اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا کہ اسلامی ممالک کے پاس وسائل اور انسانی سرمائے کی کمی نہیں، صرف مربوط ادارہ جاتی میکانزم کی ضرورت ہے۔ اس سمٹ میں افغانستان، آذربائیجان، بنگلہ دیش، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکیہ، یو اے ای اور اردن سمیت متعدد ممالک کے سفارتی نمائندوں نے شرکت کی، جنہوں نے حلال فوڈ، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ایف پی سی سی آئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے مابین پل کا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ اسلامی ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری کو عملی شکل دی جا سکے۔ وزیرِ اعظم کا شمالی وزیرستان میں نو دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ، ملک کی معاشی ترقی کے لیے ایسے فورمز کو بھی حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔

ٹیگز: #اسلامی ممالک #ایف پی سی سی آئی #تجارت #حلال مصنوعات #معاشی انضمام
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں