مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 258,500 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,675 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 258,500 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,675
قومی

پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمشن کے نوٹس کے خلاف سہیل آفریدی کی درخواست مسترد کردی، نااہلی کا خدشہ ہے، وکیل

📅 جمعرات، 08 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمشن کے نوٹس کے خلاف سہیل آفریدی کی درخواست مسترد کردی، نااہلی کا خدشہ ہے، وکیل

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست مسترد کردی۔

جسٹس ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی درخواست خارج کردی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سماعت کے دوران وزیراعلیٰ کے وکیل اور الیکشن کمیشن کے نمائندے نے عدالت کے سامنے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔

الیکشن کمیشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف تاحال کوئی حتمی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ معاملہ ابتدائی انکوائری کے مرحلے میں ہے، اس لیے درخواست قبل از وقت ہے۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف تھا کہ متعلقہ معاملے میں نوٹس جاری کرنا اس کے قانونی دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

وزیراعلیٰ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کو 25 نومبر 2025 کو انتخابی عمل اور الیکشن عملے سے متعلق بیان دینے پر نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ وکیل کے مطابق ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 234 کے تحت جبکہ الیکشن کمیشن نے سیکشن 15 کے تحت کارروائی کی۔

وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ایک ہی معاملے میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے کارروائی کی گئی، جبکہ ان کے بقول انکوائری افسر کے اختیارات اور کارروائی کا طریقہ کار بھی واضح نہیں کیا گیا۔ وکیل نے خدشہ ظاہر کیا کہ کارروائی کے نتیجے میں وزیراعلیٰ کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوران سماعت جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن درخواست گزار کو سن سکتا ہے اور وزیراعلیٰ اپنا جواب جمع کراسکتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی فی الحال انکوائری کے مرحلے میں ہے اور ایسا کوئی قانونی امتناع موجود نہیں جس کے تحت الیکشن کمیشن انکوائری نہ کرسکے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن کا مقصد انتخابی عمل میں غیر قانونی اقدامات کی روک تھام اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کے خلاف تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف درخواست خارج کردی، جس کے بعد الیکشن کمیشن کی انکوائری جاری رہے گی اور معاملہ قانونی کارروائی کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں