پاکستان کا ہائی رسک میری ٹائم فہرست سے اخراج، بحری تجارت کے لیے اہم پیش رفت
پاکستان کا ہائی رسک میری ٹائم فہرست سے اخراج، بحری تجارت کے لیے اہم پیش رفت
اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جوائنٹ وار کمیٹی نے ہائی رسک میری ٹائم علاقوں کی فہرست میں توسیع کی تھی۔
جوائنٹ وار کمیٹی نے 3 مارچ 2026 کو بحرین، جبوتی، کویت، عمان اور قطر کو ہائی رسک میری ٹائم فہرست میں شامل کیا، جبکہ مارچ میں فہرست کی توسیع کے دوران پاکستان کے ساحلی علاقوں کو بھی ہائی رسک میری ٹائم زون قرار دیا گیا تھا۔

ہائی رسک میری ٹائم علاقوں میں شامل ہونے والے جہازوں کو جنگ، دہشت گردی اور دیگر بحری خطرات کے پیش نظر اضافی وار رسک انشورنس اور دیگر مالی تقاضوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے بحری تجارت کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
پاکستان نے بحری تجارت پر بڑھتے ہوئے اضافی اخراجات کے پیش نظر ہائی رسک فہرست سے اخراج کے لیے کوششیں شروع کیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر وزیرِ بحری امور کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے لائیڈز کے متعلقہ حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔
مذاکرات کے دوران پاکستان نے اپنی پوزیشن کے حق میں تکنیکی شواہد اور سکیورٹی ڈیٹا پیش کیا، جس کے نتیجے میں اہم پیش رفت ہوئی۔

جوائنٹ وار کمیٹی نے پاکستان اور اس کے علاقائی پانیوں کو بین الاقوامی ہائی رسک میری ٹائم ایریاز کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔
پاکستان کے اخراج کے بعد پاکستانی بندرگاہوں پر آنے والے جہازوں کو پاکستان کے ساحلی اور علاقائی پانیوں کے حوالے سے اضافی وار رسک انشورنس کی پابندی کا سامنا نہیں ہوگا، جس سے بحری تجارت کی لاگت کم ہونے میں مدد ملے گی۔
پاکستان کا ہائی رسک میری ٹائم فہرست سے اخراج بحری تجارت، علاقائی رابطوں اور ٹرانس شپمنٹ کی صلاحیتوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت اور ملکی میری ٹائم سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
