پاکستان اور بیلاروس کے درمیان سائنسی و تکنیکی تعاون میں وسعت
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی سے پاکستان میں تعینات بیلاروس کے سفیر آندرے میٹیلیتسا نے ایک اہم ملاقات کی۔ اس نشست میں سائنس و ٹیکنالوجی، مشترکہ سائنسی تحقیق، معیارات کے تعین، کوالٹی انفراسٹرکچر اور حلال سرٹیفکیشن جیسے کلیدی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران سال 2015 کے سائنس و ٹیکنالوجی تعاون کے معاہدے کے تحت قائم پاکستان۔بیلاروس مشترکہ کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی (JCST) کے تحت جاری پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے لیے جاری ‘کال فار پروپوزلز’ پر بھی غور کیا۔ وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن (PSF) کو ہدایت کی کہ وہ میچنگ گرانٹ میکانزم کے تحت دو مشترکہ تحقیقی منصوبوں پر عملدرآمد اور فنڈنگ کا عمل فوری شروع کرے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ان منصوبوں کی مؤثر تکمیل کے لیے واضح اہداف، اہم سنگِ میل، مانیٹرنگ اور محققین کے مابین رابطہ کاری کا ایک شفاف نظام وضع کیا جائے، جس کی اہمیت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ کے تناظر میں بڑھ جاتی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی کا تبادلہ ممکن ہو سکے۔
معیارات اور کوالٹی کنٹرول میں تعاون
ملاقات میں پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) اور بیلاروس کے اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ فار اسٹینڈرڈائزیشن اینڈ سرٹیفکیشن (BelGISS) کے درمیان معیارات اور کنفرمٹی اسیسمنٹ کے شعبے میں جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ اس اشتراک عمل سے ڈپلیکیٹ ٹیسٹنگ میں کمی، کاروباری لاگت میں نمایاں کمی، غیر ضروری تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ اور دونوں ممالک کی مارکیٹ تک رسائی میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ معیارات کی ترسیل کے معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل مالی اور زرمبادلہ سے متعلق فیس اسٹرکچر کے معاملات کا اندرونی جائزہ لینے کا عمل بھی جاری ہے، بالکل اسی طرح جیسے ملک میں دیگر ترقیاتی منصوبوں جیسے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
حلال سرٹیفکیشن اور زرعی مصنوعات
دونوں ممالک کے نمائندگان نے حلال سرٹیفکیشن اور زرعی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے بھی تعاون پر بات چیت کی۔ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے بیلاروس سے درخواست کی کہ وہ پاکستان میں حلال رجسٹریشن کے لیے درکار مصنوعات کی تفصیلی فہرست فراہم کرے تاکہ سرٹیفکیشن اور مارکیٹ تک رسائی کے معاملات کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ حلال مصنوعات کی فہرست کو حتمی شکل دینے اور مشترکہ تکنیکی جائزے کے عمل کو تیز کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت کو فروغ ملے گا، جس کا مقصد معاشی استحکام ہے جیسا کہ اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ: ٹریفک روانی بہتر ہوگی جیسے اقدامات سے انفراسٹرکچر کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔
بیلاروس کے سفیر آندرے میٹیلیتسا نے پاکستان کی کمیونیکیشن اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں حاصل کردہ پیش رفت کو سراہا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی اور علاقائی امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے کہا کہ پاکستان بیلاروس کے ساتھ سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، معیارات، حلال سرٹیفکیشن اور مارکیٹ تک رسائی کے شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
