وفاقی وزیر حنیف عباسی کا مسن کالر پل کا دورہ، بحالی کا حکم
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے مسن کالر کے قریب ٹوٹے ہوئے پل اور متاثرہ ریلوے ٹریک کا تفصیلی معائنہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے ریلوے ٹرالی پر سوار ہو کر متاثرہ سیکشن کا تفصیلی دورہ کیا اور پل و ٹریک کی موجودہ صورتحال کا براہِ راست جائزہ لیا۔ اس موقع پر محمد حنیف عباسی کو پل کے متاثرہ حصے اور ریلوے ٹریک کو پہنچنے والے نقصانات، موجودہ صورتحال اور بحالی کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
پل کی بحالی کے لیے 20 روزہ ڈیڈلائن

وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت جاری کی کہ پل کی بحالی کے لیے 20 روز کے اندر ہر صورت فیزیبلٹی رپورٹ تیار کرکے پیش کی جائے، جس میں تعمیراتی اور تکنیکی تقاضوں کا مکمل جائزہ شامل ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیزیبلٹی رپورٹ کی تکمیل کے بعد پل کی تعمیر اور متاثرہ ریلوے ٹریک کی بحالی کا عملی کام ریلوے انجینیئرز کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔ وزیر ریلوے نے اس بات پر زور دیا کہ پل اور ٹریک کی بحالی کا کام نہ صرف تیز رفتاری سے مکمل ہونا چاہیے بلکہ اس میں حفاظتی تقاضوں اور مقررہ معیارات کا بھی مکمل پاس رکھا جائے۔ جیسا کہ محمد حنیف عباسی کی طاہرہ اورنگزیب کے بہنوئی کے انتقال پر تعزیت بھی ان کی عوامی ذمہ داریوں میں شامل رہی ہے، اسی طرح وہ ریلوے کے امور میں بھی متحرک ہیں۔
آمد و رفت کی بحالی اولین ترجیح
یاد رہے کہ پل ٹوٹنے کے باعث لاہور اور فیصل آباد سیکشن پر ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہو چکی ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آپریشن کی بحالی کے لیے ہر افسر اور ملازم کو اپنی ذمہ داری ایمانداری سے پوری کرنا ہوگی، جبکہ مسافروں کی سہولت اور ٹرینوں کی بحفاظت آمد و رفت موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس دورے کے موقع پر سی ای او ریلوے حفیظ اللہ خان، اے جی ایم انفراسٹرکچر حماد حسن مرزا، ڈی ایس لاہور اور دیگر سینئر ریلوے افسران بھی وفاقی وزیر کے ہمراہ موجود تھے۔ جس طرح پاکستان میں ویٹ لفٹنگ کی بحالی کے لیے اہم مشن کا آغاز ہوا ہے، اسی طرح ریلوے کا محکمہ بھی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ مزید برآں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وضاحت کی طرح حکومت عوامی نوعیت کے ہر معاملے پر شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے۔
