کینیڈا نے ورک پرمٹ کے قوانین مزید سخت کر دیے، نئی بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے نئی شرط نافذ

کینیڈا نے ورک پرمٹ کے قوانین مزید سخت کر دیے، نئی بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے نئی شرط نافذ
اوٹاوا: کینیڈا نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ورک پرمٹ کے قوانین میں مزید سختی کرتے ہوئے نئی بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے اہم تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ نئے ضوابط کے تحت بیرون ملک کسی کمپنی میں نئی ملازمت حاصل کرنے والے افراد اب اس وقت تک مخصوص ورک پرمٹ کے لیے درخواست نہیں دے سکیں گے جب تک وہ اپنی ملازمت باقاعدہ طور پر شروع نہ کر دیں۔
نئے قوانین کے مطابق باہمی روزگار (Reciprocal Employment) پروگرام کے تحت جاری کیے جانے والے C20 ورک پرمٹ کے لیے صرف وہی امیدوار اہل ہوں گے جو متعلقہ غیر ملکی ادارے میں پہلے سے ملازمت کر رہے ہوں۔ اس سے قبل نئی بھرتی ہونے والے افراد بھی ملازمت جوائن کرنے سے پہلے اس ورک پرمٹ کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔
کینیڈین حکام کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد ورک پرمٹ کے نظام کو مزید شفاف بنانا اور اس سہولت کو صرف حقیقی ملازمین تک محدود رکھنا ہے، تاکہ صرف وہی افراد اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں جو باہمی تبادلے کے تحت کینیڈا منتقل کیے جا رہے ہوں۔
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط سے بین الاقوامی کمپنیوں، تعلیمی اداروں اور ایسے پیشہ ور افراد متاثر ہو سکتے ہیں جو نئی ملازمت کے فوراً بعد کینیڈا منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار نئی شرط پوری نہ کر سکے تو اسے ورک پرمٹ کے لیے لیبر مارکیٹ امپیکٹ اسیسمنٹ (LMIA) یا دیگر دستیاب امیگریشن پروگراموں کے تحت درخواست دینا ہوگی۔
