پاکستانی بندرگاہیں وسطی ایشیا کے لیے ٹرانزٹ ہب بن سکتی ہیں
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ قازقستان کے سفیر یرزھان کستافین اور وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دوطرفہ تجارت کے فروغ، شپنگ، تجارتی سہولت کاری اور علاقائی روابط کو مستحکم کرنے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یہ ملاقات قازق سفیر کی وزیر بحری امور سے الوداعی نشست کے دوران ہوئی۔
دو طرفہ تعاون اور بحری روابط کا فروغ
اس موقع پر وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری نے پاکستان اور قازقستان کے مابین تعلقات کو گہرا کرنے میں سفیر یرزھان کستافین کی گراں قدر خدمات کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بحری شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ پاکستان قازقستان کے ساتھ بندرگاہوں، شپنگ، تجارتی سہولت کاری اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط بحری روابط دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ جیسا کہ وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستانی بندرگاہوں تک نئی تجارتی راہداری تلاش کی جا رہی ہے، یہ پیش رفت خطے کی اقتصادی تقدیر بدل سکتی ہے۔
بندرگاہی سہولیات اور ٹرانزٹ ہب کا کردار
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کے ذریعے قازق کارگو کے لیے مکمل بندرگاہی سہولیات اور معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فری زونز میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستانی بندرگاہیں قازقستان اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے ٹرانزٹ ہب کا کردار ادا کرتے ہوئے خلیجی ممالک، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتی ہیں۔
تجارتی امکانات پر قازق سفیر کا موقف
قازق سفیر یرزھان کستافین نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بحری اور بندرگاہی شعبوں میں قریبی تعاون سے تجارت کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ ملاقات میں ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے قازق تجارت کو آسان اور تیز بنانے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
