نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن علاقائی تجارت فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، احسن اقبال
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) ملک کی تجارتی سرگرمیوں اور علاقائی روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکمانستان کے سرحد آباد، ازبکستان کے ترمذ اور چین کے کاشغر میں فارورڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مراکز کے قیام سے پاکستان کی وسطی ایشیا اور خطے کی دیگر منڈیوں تک تجارتی رسائی مزید مستحکم ہو رہی ہے، جس کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستانی بندرگاہوں تک نئی تجارتی راہداری تلاش کرنے کے عمل کو تقویت ملی ہے۔
برآمدات اور علاقائی روابط کے فروغ پر زور
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ سست ڈرائی پورٹ اور خنجراب بارڈر ٹرمینل کو پاکستان کی برآمدات اور علاقائی تجارتی روابط کے اسٹریٹجک مراکز کے طور پر مزید وسعت دی جائے تاکہ بین الاقوامی تجارت کو جدید سہولیات کے ذریعے فروغ دیا جا سکے۔ احسن اقبال نے کہا کہ عالمی منڈی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تقاضوں سے ہم آہنگ بین الاقوامی معیار کی ڈرائیونگ اکیڈمی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس اکیڈمی میں پیشہ ورانہ ڈرائیونگ کے ساتھ غیر ملکی زبانوں کی تربیت بھی فراہم کی جائے تاکہ پاکستانی ڈرائیورز سرحد پار لاجسٹکس اور بین الاقوامی سپلائی چین میں مؤثر انداز میں اپنی خدمات انجام دے سکیں۔
جدید لاجسٹکس قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی
پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے جدید دور میں لاجسٹکس محض سامان کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ یہ قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، پائیدار سپلائی چین کی بنیاد اور اقتصادی ترقی کا ایک اسٹریٹجک ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ”اڑان پاکستان” کے اہداف، خصوصاً برآمدات پر مبنی معاشی نمو، صنعتی مسابقت اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے جدید، مربوط اور ٹیکنالوجی سے آراستہ لاجسٹکس نظام ناگزیر ہے۔
پاکستان تجارتی مرکز بننے کے لیے پرعزم
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارت اور لاجسٹکس کا مرکزی مرکز بنانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بنیادی ڈھانچے، جدید ٹرانزٹ سہولیات اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو معاشی فوائد میں تبدیل کیا جا سکے۔
