سردار محمد یوسف کا مانسہرہ کی وادی سرن کا دورہ، نقصانات کا جائزہ
مانسہرہ (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر حالیہ مون سون بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے شدید متاثر ہونے والی مانسہرہ کی وادی سرن کے مختلف علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا اور نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ مکانات، تباہ شدہ پلوں، واٹر سپلائی سکیموں، رابطہ سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کا معائنہ کرتے ہوئے بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے دورے کے دوران متاثرین سے ملاقات کی اور انہیں وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور امداد کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد زمینی حقائق کی روشنی میں نقصانات کی جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے اقدامات کو مزید تیز کیا جا سکے، جس طرح رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ویٹ بورڈ اجلاس، گندم درآمد کا فیصلہ جیسی اہم پالیسیوں میں فوری ایکشن لیا جاتا ہے، اسی طرز پر مانسہرہ میں بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔
متعلقہ حکام کو ہنگامی ہدایات
سردار محمد یوسف نے متعلقہ ضلعی و انتظامی حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر نقصانات کی تفصیلی رپورٹ تیار کریں اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں سستی اور تاخیر برتی جا رہی ہے، جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت ملک بھر میں انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے جیسا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اہم اجلاس میں بھی توانائی بحران کے حل پر زور دیا گیا تھا۔ انتظامی کوتاہیوں کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بھی بحث جاری ہے، جیسا کہ طاقتور حلقے مسلم لیگ ن کی حکومت کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں، گورنر سلیم حیدر کے حالیہ بیان سے بھی حکومتی چیلنجز عیاں ہوتے ہیں۔
