حوثیوں کا سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان
دبئی (نمائندہ خصوصی)۔ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی (نیول بلاکیڈ) کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل پر منفی اثرات کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
حوثی گروپ کا فوری اقدام اور جوابی کارروائی
حوثی گروپ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں اعلان کیا کہ سعودی عرب کے خلاف بحری پابندی فوری طور پر نافذ کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام یمن پر سعودی عرب کی طویل عرصے سے جاری ناکہ بندی کے جواب میں اٹھایا گیا ہے اور یہ "آنکھ کے بدلے آنکھ” کے اصول پر مبنی ہے۔ حوثی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے مزید فوجی کارروائی کی تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں فریقوں کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو 2022 کی جنگ بندی کے بعد سب سے سنگین صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تجارتی و سیکورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق جیسے امور عالمی سفارتکاری کا حصہ رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال نے خطے کی سلامتی کو نئی مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
بحیرہ احمر میں جہاز رانی اور عالمی سپلائی چین پر اثرات
اس پیش رفت نے باب المندب آبنائے کی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہاں جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی سپلائی چین، شپنگ اخراجات، انشورنس پریمیم اور توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس حساس صورتحال میں، جہاں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے، محسن نقوی سے ملاقات جیسے اہم دورے ہو رہے ہیں، خطے میں کشیدگی کا بڑھنا عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔
سعودی عرب کا ردعمل اور عالمی معیشت
سعودی عرب کی جانب سے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم دفاعی اور بحری امور کے ماہرین کے مطابق صرف اس اعلان سے بھی شپنگ کمپنیاں اپنے بحری راستوں پر نظرثانی اور اضافی حفاظتی اقدامات پر مجبور ہو سکتی ہیں، جس سے علاقائی اور عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حال ہی میں جس طرح پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق ہوا ہے، عالمی برادری ایسے ہی اقدامات کے ذریعے خطے میں استحکام کی خواہاں ہے۔ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد علاقائی تنازعات اور سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
